اِسلامی اُصول کی فلاسفی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 440 of 550

اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 440

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۴۳۴ اسلامی اصول کی فلاسفی إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَا يَتِ لِأُولِي الْأَلْبَابِ الَّذِيْنَ يَذْكُرُونَ اللهَ قِيمًا وَقُعُودًا وَ عَلى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا سبْحَنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ یعنی جب دانشمند اور اہل عقل انسان زمین اور آسمان کے اجرام کی بناوٹ میں غور کرتے اور رات دن کی کمی بیشی کے موجبات اور علل کو نظر عمیق سے دیکھتے ہیں انہیں اس نظام پر نظر ڈالنے سے خدا تعالیٰ کے وجود پر دلیل ملتی ہے۔ پس وہ زیادہ انکشاف کے لئے خدا سے مدد چاہتے ہیں اور اس کو کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر اور کروٹ پر لیٹ کر یاد کرتے ہیں جس سے ان کی عقلیں بہت صاف ہو جاتی ہیں۔ پس جب وہ ان عقلوں کے ذریعہ سے اجرام فلکی اور زمینی کی بناوٹ احسن اور اولی میں فکر کرتے ہیں تو بے اختیار بول اٹھتے ہیں کہ ایسا نظام ابلغ اور محکم ہرگز باطل اور بے سود نہیں بلکہ صانع حقیقی کا چہرہ دکھلا رہا ہے۔ پس وہ الوہیت صانع عالم کا اقرار کر کے یہ مناجات کرتے ہیں کہ یا الہی تو اس سے پاک ہے کہ کوئی تیرے وجود سے انکار کر کے نالائق صفتوں سے تجھے موصوف کرے۔سو تو ہمیں دوزخ کی آگ سے بچا یعنی تجھ سے انکار کرنا عین دوزخ ہے اور تمام آرام اور راحت تجھ میں اور تیری شناخت میں ہے ۔ جو شخص کہ تیری کچی شناخت سے محروم رہا وہ در حقیقت اسی دنیا میں آگ میں ہے۔ انسانی فطرت کی حقیقت ایسا ہی ایک علم کا ذریعہ انسانی کانشنس بھی ہے جس کا نام خدا کی کتاب میں ال عمران : ۱۹۱ ۱۹۲