اِسلامی اُصول کی فلاسفی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 437 of 550

اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 437

روح<mark>ان</mark>ی خزائن جلد ۱۰ ۴۳۱ <mark>اس</mark>لامی اصول کی فل<mark>اس</mark>فی پ<mark>ان</mark>چواں سوال یہ ہے کہ علم اور معرفت الہی کے ذریعے کیا کیا ہیں؟ <mark>اس</mark> سوال کے جواب میں واضح ہو کہ <mark>اس</mark> بارے میں جس قدر قرآن شریف نے مبسوط طور پر ذکر فرمایا ہے۔ <mark>اس</mark> کے ذکر <mark>کرنے</mark> کی تو <mark>اس</mark> جگہ <mark>کسی</mark> طرح گنجائش نہیں لیکن بطور نمونہ <mark>کسی</mark> قدر بی<mark>ان</mark> کیا جا<mark>تا</mark> ہے۔ سو ج<mark>ان</mark>نا چاہیے کہ قرآن شریف نے علم تین قسم پر قرار دیا ہے۔ (۱) علم الیقین (۲) عین الیقین (۳) حق الیقین جیسا کہ ہم پہلے <mark>اس</mark> سے سورہ الھکم التکاثر کی تفسیر میں ذکر کر چکے ہیں اور بی<mark>ان</mark> کر چکے ہیں کہ علم الیقین وہ ہے کہ شئے مقصود کا <mark>کسی</mark> و<mark>اس</mark>طہ کے ذریعہ سے نہ بلا و<mark>اس</mark>طہ پتہ لگایا جائے۔ جیسا کہ ہم دھوئیں سے آگ کے وجود پر <mark>اس</mark>تدلال کرتے ہیں ہم نے آگ کو دیکھا نہیں مگر دھوئیں کو دیکھا ہے کہ جس سے ہمیں آگ کے وجود پر یقین آیا۔ سو یہ علم الیقین ہے اور اگر ہم نے آگ کو ہی دیکھ لیا ہے تو یہ بموجب بی<mark>ان</mark> قرآن شریف یعنی سوره الهكم التكاثر کے علم کے مراتب میں سے عین الیقین کے نام سے موسوم ہے اور اگر ہم <mark>اس</mark> آگ میں <mark>داخل</mark> بھی ہو گئے ہیں تو <mark>اس</mark> علم کے مرتبہ کا نام قرآن شریف کے بی<mark>ان</mark> کے رو سے حق الیقین ہے ۔ سورہ الهكم التكاثر کے اب دوبارہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔ ناظرین <mark>اس</mark> موقع سے <mark>اس</mark> تفسیر کو دیکھ لیں۔ اب ج<mark>ان</mark>نا چاہیے کہ پہلی قسم کا جو علم ہے یعنی علم الیقین ۔ <mark>اس</mark> کا ذریعہ معقل اور منقولات ہیں۔ اللہ <mark>تعالیٰ</mark> دوزخیوں سے حکایت کر کے فرما<mark>تا</mark> ہے۔ قَالُوا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِي أَصْحُبِ السَّعِيرِ الملک : ا