اِسلامی اُصول کی فلاسفی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 436 of 550

اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 436

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۴۳۰ اسلامی اصول کی فلاسفی میں کوئی الہام یافتہ پیدا نہیں ہوا تھا اس لئے تمام دنیا نے اپنی حالت کو خراب کر دیا تھا۔ ہر ایک ملک کی تاریخیں پکار پکار کر کہتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مگر آپ کے ظہور سے پہلے تمام دنیا میں خیالات فاسدہ پھیل گئے تھے۔ ایسا کیوں ہوا تھا اور اس کا کیا سبب تھا؟ یہی تو تھا کہ الہام کا سلسلہ مدتوں تک بند ہو گیا تھا۔ آسمانی سلطنت صرف عقل کے ہاتھ میں تھی ۔ پس اس ناقص عقل نے کن کن خرابیوں میں لوگوں کو ڈالا کیا اس سے کوئی نا واقف بھی ہے۔ دیکھو الہام کا پانی جب مدت تک نہ برسا تو عقلوں کا پانی کیسا خشک ہو گیا۔ سوان قسموں میں یہی قانون قدرت اللہ تعالیٰ پیش کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ تم غور کر کے دیکھو کہ کیا خدا کا یہ حکم اور دائی قانون قدرت نہیں کہ زمین کی تمام سرسبزی کا مدار آسمان کا پانی ہے۔ سو اس پوشیدہ قانون قدرت کے لئے جو الہام الہی کا سلسلہ ہے۔ یہ کھلا کھلا قانون قدرت بطور گواہ کے ہے۔ سواس گواہ سے فائدہ اٹھاؤ اور صرف عقل کو اپنارہبر مت بناؤ کہ وہ ایسا پانی نہیں جو آسانی پانی کے سوا موجود رہ سکے۔ جس طرح آسمانی پانی کا یہ خاصہ ہے کہ خواہ کسی کنویں میں اس کا پانی پڑے یا نہ پڑے وہ اپنی طبعی خاصیت سے تمام کنوؤں کے پانی کو اوپر چڑھا دیتا ہے۔ ایسا ہی جب خدا کا ایک الہام یافتہ دنیا میں ظہور فرماتا ہے خواہ کوئی عقلمند اس کی پیروی کرے یا نہ کرے مگر اس الہام یافتہ کے زمانہ میں خود عقلوں میں ایسی روشنی اور صفائی آجاتی ہے کہ پہلے اس سے موجود نہ تھی ۔ لوگ خواہ نخواہ حق کی تلاش کرنا شروع کر دیتے ہیں اور غیب سے ایک حرکت ان کی قوت متفکرہ میں پیدا ہو جاتی ہے۔ سو یہ تمام عقلی ترقی اور دلی جوش اس الہام یافتہ کے قدم مبارک سے پیدا ہو جاتا ہے اور بالخاصیت زمین کے پانیوں کو اوپر اٹھاتا ہے جب تم دیکھو کہ مذاہب کی جستجو میں ہر ایک شخص کھڑا ہو گیا ہے اور زمینی پانی کو کچھ ابال آیا ہے تو اٹھو اور خبر دار ہو جاؤ اور یقیناً سمجھو کہ آسمان سے زور کا مینہ برسا ہے اور کسی دل پر الہامی بارش ہوگئی ہے۔