اِسلامی اُصول کی فلاسفی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 435 of 550

اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 435

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۴۲۹ إِنَّهُ لَقَوْلُ فَصْلُّ وَمَا هُوَ بِالْهَزْلِ اسلامی اصول کی فلاسفی یعنی اس آسمان کی قسم ہے جس کی طرف سے بارش آتی ہے اور اس زمین کی قسم ہے جو بارش سے طرح طرح کی سبزیاں نکالتی ہے کہ یہ قرآن خدا کا کلام ہے اور اس کی وحی ہے اور وہ باطل اور حق میں فیصلہ کرنے والا ہے اور عبث اور بیہودہ نہیں یعنی بے وقت نہیں آیا موسم کے مینہ کی طرح آیا ہے۔ اب خدا تعالیٰ نے قرآن شریف کے ثبوت کے لئے جو اس کی وحی ہے ایک کھلے کھلے قانون قدرت کو قسم کے رنگ میں پیش کیا یعنی قانون قدرت میں ہمیشہ یہ بات مشہود اور مرئی ہے کہ ضرورتوں کے وقت آسمان سے بارش ہوتی ہے اور تمام مدار زمین کی سرسبزی کا آسمان کی بارش پر ہے۔ اگر آسمان سے بارش نہ ہو تو رفتہ رفتہ کنویں بھی خشک ہو جاتے ہیں۔ پس دراصل زمین کے پانی کا وجود بھی آسمان کی بارش پر موقوف ہے۔ اسی وجہ سے جب بھی آسمان سے پانی برستا ہے تو زمین کے کنوؤں کا پانی چڑھ آتا ہے۔ کیوں چڑھ آتا ہے؟ اس کا یہی سبب ہے کہ آسمانی پانی زمین کے پانی کو اوپر کی طرف کھینچتا ہے۔ یہی رشتہ وحی اللہ اور عقل میں ہے ۔ وحی اللہ یعنی الہام الہی آسمانی پانی ہے اور عقل زمینی پانی ہے اور یہ پانی ہمیشہ آسمانی پانی سے جو الہام ہے تربیت پاتا ہے اور اگر آسمانی پانی یعنی وحی ہونا بند ہو جائے تو یہ زمینی پانی بھی رفتہ رفتہ خشک ہو جاتا ہے۔ کیا اس کے واسطے یہ دلیل کافی نہیں کہ جب ایک زمانہ دراز گذر جاتا ہے اور کوئی الہام یافتہ زمین پر پیدا نہیں ہوتا تو عقلمندوں کی عقلیں نہایت گندی اور خراب ہو جاتی ہیں جیسے زمینی پانی خشک ہو جاتا ہے سڑ جاتا ہے۔ اس کے سمجھنے کے لئے اس زمانہ پر ایک نظر ڈالنا کافی ہے جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لانے سے پہلے اپنا رنگ تمام دنیا میں دکھلا رہا تھا۔ چونکہ اس وقت حضرت مسیح کے زمانہ کو چھ سو برس گزر گئے تھے اور اس عرصہ ل الطارق: ۱۲ تا ۱۵