اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 434
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۴۲۸ اسلامی اصول کی فلاسفی ایسی ناپاک اور احمقانہ حرکتوں سے ہمارے سید و مولی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی نے بچالیا۔ اب دیکھو کیسا ثابت ہوا کہ الہام منظمندوں کا رات کی طرح پردہ پوش ہے۔ یہ بھی آپ لوگ جانتے ہیں کہ خدا کے کامل بندے آسمان کی طرح ہر ایک درماندہ کو اپنے سایہ میں لے لیتے ہیں۔ خاص کر اس ذات پاک کے انبیاء اور الہام پانے والے عام طور پر آسمان کی طرح فیض کی بارشیں برساتے ہیں۔ ایسا ہی زمین کی خاصیت بھی اپنے اندر رکھتے ہیں۔ ان کے نفس نفیس سے طرح طرح کے علوم عالیہ کے درخت نکلتے ہیں جن کے سایہ اور پھل اور پھول سے لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں۔ سو یہ کھلا کھلا قانون قدرت جو ہماری نظر کے سامنے ہے اس چھپے ہوئے قانون کا ایک گواہ ہے جس کی گواہی کو قسموں کے پیرایہ میں خدا تعالٰی نے ان آیات میں پیش کیا ہے۔ سو دیکھو کہ یہ کس قدر پر حکمت کلام ہے جو قرآن شریف میں پایا جاتا ہے۔ یہ اس کے منہ سے نکلا ہے جو ایک اُمی اور بیابان کے رہنے والا تھا۔ اگر یہ خدا کا کلام نہ ہوتا تو اس طرح عام عقلیں اور وہ تمام لوگ جو تعلیم یافتہ کہلاتے ہیں اس کے اس دقیق نکتہ معرفت سے عاجز آ کر اعتراض کی صورت میں اس کو نہ دیکھتے۔ یہ قاعدہ کی بات ہے کہ انسان جب ایک بات کو کسی پہلو سے بھی اپنی مختصر عقل کے ساتھ نہیں سمجھ سکتا تب ایک حکمت کی بات کو جائے اعتراض ٹھہرا لیتا ہے اور اس کا اعتراض اس بات کا گواہ ہو جاتا ہے کہ وہ دقیقہ حکمت عام عقلوں سے برتر و اعلیٰ تھا۔ تب ہی تو عظمندوں نے عقلمند کہلا کر پھر بھی اس پر اعتراض کر دیا مگر اب جو یہ راز کھل گیا تو اب اس کے بعد کوئی عقلمند اس پر اعتراض نہیں کرے گا بلکہ اس سے لذت اٹھائے گا۔ یادر ہے کہ قرآن شریف نے وحی اور الہام کی سنت قدیمہ پر قانون قدرت سے گواہی لانے کے لئے ایک اور مقام میں بھی اسی قسم کی قسم کھائی ہے اور وہ یہ ہے۔ وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الرَّجْعِ وَالْأَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِ