اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 429
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۴۲۳ اسلامی اصول کی فلاسفی کامل شریعت کا فعل جو اس کی زندگی میں انسان کے دل پر ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ اس کو وحشیانہ حالت سے انسان بناوے اور پھر انسان سے با اخلاق انسان بناوے اور پھر با اخلاق انسان سے باخدا انسان بناوے اور نیز اس زندگی میں عملی شریعت کا ایک فعل یہ ہے کہ شریعت حقہ پر قائم ہو جانے سے ایسے شخص کا بنی نوع پر یہ اثر ہوتا ہے کہ وہ درجہ بدرجہ ان کے حقوق کو پہچانتا ہے اور عدل اور احسان اور ہمدردی کی قوتوں کو اپنے اپنے محل پر استعمال کرتا ہے اور جو کچھ خدا نے اس کو علم اور معرفت اور مال اور آسائش میں سے حصہ دیا ہے سب لوگوں کو حسب مراتب ان نعمتوں میں شریک کر دیتا ہے۔ وہ تمام بنی نوع پر سورج کی طرح اپنی روشنی ڈالتا ہے اور چاند کی طرح حضرت اعلیٰ سے نور پا کر وہ نور دوسروں تک پہنچا تا ہے۔ وہ دن کی طرح روشن ہو کر نیکی اور بھلائی کی راہیں لوگوں کو دکھاتا ہے۔ وہ رات کی طرح ہر ایک ضعیف کی پردہ پوشی کرتا ہے اور تھکوں اور ماندوں کو آرام پہنچاتا ہے۔ وہ آسمان کی طرح ہر ایک حاجت مند کو اپنے سایہ کے نیچے جگہ دیتا ہے اور وقتوں پر اپنے فیض کی بارشیں برساتا ہے وہ زمین کی طرح کمال انکسار سے ہر ایک آدمی کی آزمائش * کے لئے بطور فرش کے ہو جاتا ہے اور سب کو اپنی کنار عاطفت میں لے لیتا اور طرح طرح کے روحانی میوے ان کے لئے پیش کرتا ہے۔ سو یہی کامل شریعت کا اثر ہے کہ کامل شریعت پر قائم ہونے والا حق اللہ اور حق العباد کو کمال کے نقطہ تک پہنچا دیتا ہے۔ خدا میں وہ محو ہو جاتا ہے اور مخلوق کا سچا خادم بن جاتا ہے۔ یہ تو عملی شریعت کا اس زندگی میں اس پر اثر ہے مگر زندگی کے بعد جو اثر ہے وہ یہ ہے کہ خدا کا روحانی اتصال اس روز کھلے کھلے دیدار کے طور پر اس کو نظر آئے گا اور خلق اللہ کی خدمت جو اس نے خدا کی محبت میں ہو کر کی جس کا محرک ایمان اور اعمال صالحہ کی خواہش تھی وہ بہشت کے درختوں اور نہروں کی طرح متمثل ہو کر دکھائی دے گی ۔ اس میں خدا تعالیٰ کا فرمان یہ ہے۔ ے اصل مسودہ میں ” آسائش “ کے الفاظ مرقوم ہیں۔ (ناشر)