اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 424
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۴۱۸ اسلامی اصول کی فلاسفی خدا تعالیٰ کی احسانی صفات کا خلاصہ سورہ فاتحہ میں پایا جاتا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ کیونکہ ظاہر ہے کہ احسان کامل اس میں ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو محض نابود سے پیدا کرے اور پھر ہمیشہ اس کی ربوبیت ان کے شامل حال ہو اور وہی ہر ایک چیز کا آپ سہارا ہو اور پھر اس کی تمام قسم کی رحمتیں اس کے بندوں کے لئے ظہور میں آئی ہوں اور اس کا احسان بے انتہا ہو ۔ جس کا کوئی شمار نہ کر سکے۔ سوایسے احسانوں کو خدا تعالیٰ نے بار بار جتلایا ہے جیسا کہ ایک اور جگہ فرماتا ہے۔ وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا ! یعنی اگر خدا تعالیٰ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو ہر گز گن نہ سکو گے۔ چوتھا وسیلہ خدا تعالیٰ نے اصل مقصود کے پانے کے لئے دعا کو ٹھہرایا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ ٣ یعنی تم دعا کرو میں قبول کروں گا اور بار بار دعا کے لئے رغبت دلائی ہے تا انسان اپنی طاقت سے نہیں بلکہ خدا کی طاقت سے پاوے۔ پانچواں وسیلہ اصل مقصود کے پانے کے لئے خدا تعالیٰ نے مجاہدہ ٹھہرایا ہے یعنی اپنا مال خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے ذریعہ سے اور اپنی طاقتوں کو خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے ذریعہ سے اور اپنی جان کو خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے ذریعہ سے اور اپنی عقل کو خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے ذریعہ سے اس کو ڈھونڈا جائے جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔ الفاتحة : ٢ تام ابراهیم ۳۵ المؤمن: ٦١