اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 415
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۴۰۹ اسلامی اصول کی فلاسفی فرمایا ہے اس میں سے ایک یہ آیت ہے۔ مَنْ كَانَ فِي هَذِةٍ أَعْمَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْمَى وَأَضَلُّ سَبِيلًا یعنی جو شخص اس جہان میں اندھا ہوگا وہ دوسرے جہان میں بھی اندھا ہوگا۔ اس آیت کا مقصد یہ ہے کہ اس جہان کی روحانی نابینائی اُس جہان میں جسمانی طور پر مشہود اور محسوس ہوگی۔ ایسا ہی دوسری آیت میں فرماتا ہے۔ خُذُوهُ فَعلُوْهُ ثُمَّ الْجَحِيمَ صَلُّوهُ ثُمَّ فِي سِلْسِلَةِ ذَرْعُهَا سَبْعُونَ ذِرَاعًا فَاسْلُكُوهُ : یعنی اس جہنمی کو پکڑو۔ اس کی گردن میں طوق ڈالو پھر دوزخ میں اس کو جلاؤ پھر ایسی زنجیر میں جو پیمائش میں سنتر گز ہے اس کو داخل کرو۔ جاننا چاہیے کہ ان آیات میں ظاہر فرمایا ہے کہ دنیا کا روحانی عذاب عالم معاد میں جسمانی طور پر نمودار ہو گا چنانچہ طوق گردن دنیا کی خواہشوں کا جس نے انسان کے سرکو زمین کی طرف جھکا رکھا تھا وہ عالم ثانی میں ظاہری صورت پر نظر آ جائے گا اور ایسا ہی دنیا کی گرفتاریوں کی زنجیر پیروں میں پڑی ہوئی دکھائی دے گی اور دنیا کی خواہشوں کی سوزشوں کی آگ ظاہر ظاہر بھڑ کی ہوئی نظر آئے گی۔ فاسق انسان دنیا کی زندگی میں ہوا و ہوس کا ایک جہنم اپنے اندر رکھتا ہے اور ناکامیوں میں اس جہنم کی سوزشوں کا احساس کرتا ہے۔ پس جبکہ اپنی فانی شہوات سے دور ڈالا جائے گا اور ہمیشہ کی ناامیدی طاری ہوگی تو خدا تعالیٰ ان حسرتوں کو جسمانی آگ کے طور پر اس پر ظاہر کرے گا جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔ وَحِيْلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ یعنی ان میں اور ان کی خواہشوں کی چیزوں میں جدائی ڈالی جائے گی اور یہی عذاب کی جڑ بنی اسرائیل :۷۳ الحاقة : ٣٢،٣١ سبا : ۵۵