اِسلامی اُصول کی فلاسفی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 405 of 550

اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 405

۳۹۹ روحانی خزائن جلد ۱۰ اسلامی اصول کی فلاسفی یعنی جو لوگ ایمان لانے والے اور اچھے کام کرنے والے ہیں جن میں ذرہ فساد نہیں۔ ان کو خوش خبری دے کہ وہ اس بہشت کے وارث ہیں جس کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ جب وہ عالم آخرت میں ان درختوں کے ان پھلوں میں سے جو دنیا کی زندگی میں ہی ان کو مل چکے تھے پائیں گے تو کہیں گے کہ یہ تو وہ پھل ہیں جو ہمیں پہلے ہی دیئے گئے تھے کیونکہ وہ ان پھلوں کو ان پہلے پھلوں سے مشابہ پائیں گے۔ اب یہ گمان کہ پہلے پھلوں سے مراد دنیا کی جسمانی نعمتیں ہیں بالکل غلطی ہے اور آیت کے بدیہی معنے اور اس کے منطوق کے بالکل برخلاف ہے بلکہ اللہ جل شانه اس آیت میں یہ فرماتا ہے کہ جو لوگ ایمان لائے اور اعمال صالحہ کئے انہوں نے اپنے ہاتھ سے ایک بہشت بنایا ہے جس کے درخت ایمان اور جس کی نہریں اعمال صالحہ ہیں۔ اسی بہشت کا وہ آئندہ بھی پھل کھائیں گے اور وہ پھل زیادہ نمایاں اور شیریں ہوگا اور چونکہ وہ روحانی طور پر اسی پھل کو دنیا میں کھا چکے ہوں گے اس لئے دوسری دنیا میں اس پھل کو پہچان لیں گے اور کہیں گے کہ یہ تو وہی پھل معلوم ہوتے ہیں کہ جو پہلے ہمارے کھانے میں آچکے ہیں اور اس پھل کو اس پہلی خوراک سے مشابہ یا ئیں گے۔ سو یہ آیت صریح بتا رہی ہے کہ جو لوگ دنیا میں خدا کی محبت اور پیار کی غذا کھاتے تھے ۔ اب جسمانی شکل پر وہی غذا ان کو ملے گی اور چونکہ وہ پریت اور محبت کا مزہ چکھ چکے تھے اور اس کیفیت سے آگاہ تھے اس لئے ان کی روح کو وہ زمانہ یاد آ جائے گا کہ جب وہ گوشوں اور خلوتوں میں اور رات کے اندھیروں میں محبت کے ساتھ اپنے محبوب حقیقی کو یاد کرتے اور اس یا د سے لذت اٹھاتے تھے۔ غرض اس جگہ جسمانی غذاؤں کا کچھ ذکر نہیں اور اگر کسی کے دل میں یہ خیال پیدا ہو کہ جبکہ روحانی طور پر عارفوں کو یہ غذا دنیا میں مل چکی تھی تو پھر یہ کہنا کیونکر صحیح ہوسکتا ہے کہ وہ ایسی نعمتیں ہیں کہ نہ دنیا میں کسی نے دیکھیں نہ سنیں اور نہ کسی کے دل میں گذریں اور اس صورت میں ان دونوں آیتوں میں تناقض پایا جاتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ تناقض اس صورت میں ہوتا کہ جب اس آیت میں دنیا کی نعمتیں مراد ہو تیں لیکن جب اس جگہ دنیا کی نعمتیں مراد نہیں ہیں جو کچھ عارف کو معرفت کے رنگ میں ملتا ہے وہ در حقیقت دوسرے جہان کی نعمت ہوتی ہے