اِسلامی اُصول کی فلاسفی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 404 of 550

اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 404

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۹۸ اسلامی اصول کی فلاسفی اور ہمیشہ یہ چیزیں کھاتے ہیں۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ وہ چیزیں اور ہیں اور ان کو ان چیزوں سے صرف نام کا اشتراک ہے۔ پس جس نے بہشت کو دنیا کی چیزوں کا مجموعہ سمجھا۔ اس نے قرآن شریف کا ایک حرف بھی نہیں سمجھا۔ اس آیت کی شرح میں جو ابھی میں نے ذکر کی ہے ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ بہشت اور اس کی نعمتیں وہ چیزیں ہیں جو نہ کبھی کسی آنکھ نے دیکھیں اور نہ کسی کان نے سنیں اور نہ دلوں میں کبھی گذریں حالانکہ ہم دنیا کی نعمتوں کو آنکھوں سے بھی دیکھتے ہیں اور کانوں سے بھی سنتے ہیں اور دل میں بھی وہ نعمتیں گزرتی ہیں ۔ پس جبکہ خدا اور رسول اس کا ان چیزوں کو ایک نرالی چیزیں بتلاتا ہے تو ہم قرآن سے دور جا پڑتے ہیں۔ اگر یہ گمان کریں کہ بہشت میں بھی دنیا کا ہی دودھ ہو گا جو گائیوں اور بھینسوں سے دو ہا جاتا ہے۔ گویا دودھ دینے والے جانوروں کے وہاں ریوڑ کے ریوڑ موجود ہوں گے اور درختوں پر شہد کی مکھیوں نے بہت سے چھتے لگائے ہوئے ہونگے اور فرشتے تلاش کر کے وہ شہد نکالیں گے اور نہروں میں ڈالیں گے کیا ایسے خیالات اس تعلیم سے کچھ مناسبت رکھتے ہیں جس میں یہ آیتیں موجود ہیں کہ دنیا نے ان چیزوں کو کبھی نہیں دیکھا اور وہ چیزیں روح کو روشن کرتی ہیں اور خدا کی معرفت بڑھاتی ہیں اور روحانی غذائیں ہیں۔ گوان غذاؤں کا تمام نقشہ جسمانی رنگ پر ظاہر کیا گیا ہے مگر ساتھ ساتھ بتایا گیا ہے کہ ان کا سر چشمہ روح اور راستی ہے۔ کوئی یہ گمان نہ کرے کہ قرآن کریم کی مندرجہ ذیل آیت سے یہ پایا جاتا ہے کہ جو جو نعمتیں بہشت میں دی جائیں گی ان نعمتوں کو دیکھ کر بہشتی لوگ ان کو شناخت کرلیں گے کہ یہی نعمتیں ہمیں پہلے بھی ملی تھیں جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔ وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ أَنَّ لَهُمْ جَنَّتٍ تَجْرِى مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَرُ كُلَّمَارُ زِقُوا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِزْقًا قَالُوا هَذَا الَّذِي رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ ٥٩) وَاتُوْا بِهِ مُتَشَابِهَا البقرة : ٢٦