اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 384
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۷۸ اسلامی اصول کی فلاسفی يَا يَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَجِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبْدِي وَادْخُلِي جَنَّتِي یعنی اے نفس خدا کے ساتھ آرام یافتہ ۔ اپنے رب کی طرف واپس چلا آ۔ وہ تجھ سے راضی اور تو اس سے راضی ۔ پس میرے بندوں میں داخل ہو جا اور میری بہشت کے اندر آجا۔ اس جگہ بہتر ہے کہ ہم روحانی حالتوں کے بیان کرنے کے لئے اس آیت کریمہ کی تفسیر کسی قدر توضیح سے بیان کریں۔ پس یا د رکھنا چاہیے کہ اعلیٰ درجہ کی روحانی حالت انسان کی اس دنیوی زندگی میں یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے ساتھ آرام یا جائے اور تمام اطمینان اور سرور اور لذت اس کی خدا میں ہی ہو جائے یہی وہ حالت ہے جس کو دوسرے لفظوں میں بہشتی زندگی کہا جاتا ہے۔ اس حالت میں انسان اپنے کامل صدق اور صفا اور وفا کے بدلہ میں ایک نقد بہشت پالیتا ہے اور دوسرے لوگوں کی بہشت موعود پر نظر ہوتی ہے اور یہ بہشت موجود میں داخل ہوتا ہے۔ اسی درجہ پر پہنچ کر انسان سمجھتا ہے کہ وہ عبادت جس کا بوجھ اس کے سر پر ڈالا گیا ہے درحقیقت وہی ایک ایسی غذا ہے جس سے اس کی روح نشو ونما پاتی ہے اور جس پر اس کی روحانی زندگی کا بڑا بھاری مدار ہے اور اس کے نتیجہ کا حصول کسی دوسرے جہان پر موقوف نہیں ہے۔ اسی مقام پر یہ بات حاصل ہوتی ہے کہ وہ ساری ملامتیں جو نفس لوامہ انسان کا اس کی نا پاک زندگی پر کرتا ہے اور پھر بھی نیک خواہشوں کو اچھی طرح ابھار نہیں سکتا اور بری خواہشوں سے حقیقی نفرت نہیں دلا سکتا اور نہ نیکی پر ٹھہرنے کی پوری قوت بخش سکتا ہے اس پاک تحریک سے بدل جاتی ہیں جو نفس مطمئنہ کے نشو ونما کا آغاز ہوتی ہے۔ اور اس درجہ پر پہنچ کر وقت آ جاتا ہے کہ انسان پوری فلاح حاصل کرے اور اب تمام نفسانی جذبات خود بخود افسردہ ہونے لگتے ہیں اور روح پر ایک ایسی طاقت افزا ہوا چلنے لگتی ہے جس سے انسان پہلی کمزوریوں کو ندامت کی نظر سے دیکھتا ہے۔ اس وقت انسانی سرشت پر ایک بھاری انقلاب آتا الفجر: ۲۸ تا ۳۱