اِسلامی اُصول کی فلاسفی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 382 of 550

اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 382

روحانی خزائن جلد ۱۰ اسلامی اصول کی فلاسفی الرحمن الرحيم مالک یوم الدین اجیب دعوة الداع اذا دعان یعنی وہی خدا ہے جو تمام عالموں کا پرورش کرنے والا ۔ رحمن رحیم اور جزا کے دن کا آپ مالک ہے۔ اس اختیار کو کسی کے ہاتھ میں نہیں دیا۔ ہر ایک پکارنے والے کی پکار کو سننے والا اور جواب دینے والا یعنی (۴۵) دعاؤں کا قبول کرنے والا اور پھر فرمایا۔ الحی القیوم یعنی ہمیشہ رہنے والا اور تمام جانوں کی جان اور سب کے وجود کا سہارا ۔ یہ اس لئے کہا کہ وہ ازلی ابدی نہ ہو تو اس کی زندگی کے بارے میں بھی دھڑ کا ر ہے گا کہ شاید ہم سے پہلے فوت نہ ہو جائے۔ اور پھر فرمایا کہ وہ خدا اکیلا خدا ہے نہ وہ کسی کا بیٹا اور نہ کوئی اس کا بیٹا اور نہ کوئی اس کے برابر اور نہ کوئی اس کا ہم جنس ۔ اور یادر ہے کہ خدا تعالیٰ کی توحید کو صیح طور پر مانا اور اس میں زیادت یا کمی نہ کرنا۔ یہ وہ عدل ہے جو انسان اپنے مالک حقیقی کے حق میں بجالاتا ہے۔ یہ تمام حصہ اخلاقی تعلیم کا ہے جو قرآن شریف کی تعلیم میں سے درج ہوا ہے۔ اس میں اصول یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے تمام اخلاق کو افراط اور تفریط سے بچایا ہے۔ اور ہر ایک خلق کو اس حالت میں خلق کے نام سے موسوم کیا ہے کہ جب اپنی واقعی اور واجب حد سے کم و بیش نہ ہو۔ یہ تو ظاہر ہے کہ نیکی حقیقی وہی چیز ہے جو دو حدوں کے وسط میں ہوتی ہے یعنی زیادتی اور کمی یا افراط اور تفریط کے درمیان ہوتی ہے۔ ہر ایک عادت جو وسط کی طرف کھینچے اور وسط پر قائم کرے وہی خلق فاضل کو پیدا کرتی ہے۔ محل اور موقعہ کا پہچانا ایک وسط ہے مثلاً اگر زمیندار اپنا تم وقت سے پہلے بودے یا وقت کے بعد ۔ دونوں صورتوں میں وہ وسط کو چھوڑتا ہے۔ نیکی اور حق اور حکمت سب وسط میں ہے اور وسط موقع بینی میں ۔ یا یوں سمجھ لو کہ حق وہ چیز ہے کہ ہمیشہ دو متقابل با طلوں کے وسط میں ہوتا ہے اور اس میں کچھ شک نہیں کہ عین موقعہ کا التزام ہمیشہ انسان کو وسط میں رکھتا ہے اور خدا شناسی کے بارے میں وسط کی شناخت یہ ہے کہ خدا کی صفات بیان کرنے میں نہ تو نفی صفات کے پہلو کی طرف جھک جائے اور نہ خدا کو جسمانی چیزوں کا مشابہ قرار دے۔ یہی طریق قرآن شریف