اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 381
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۷۵ اسلامی اصول کی فلاسفی چاہیں تو کبھی پیدا نہ کر سکیں اگر چہ ایک دوسرے کی مدد بھی کریں بلکہ اگر کبھی ان کی چیز چھین کر لے جائے تو انہیں طاقت نہیں ہوگی کہ وہ کبھی سے چیز واپس لے سکیں۔ان کے پرستار عقل کے کمزور اور وہ طاقت کے کمزور ہیں۔ کیا خدا ایسے ہوا کرتے ہیں؟ خدا تو وہ ہے کہ سب قوتوں والوں سے زیادہ قوت والا اور سب پر غالب آنے والا ہے ۔ نہ اُس کو کوئی پکڑ سکے نہ مار سکے۔ ایسی غلطیوں میں جو لوگ پڑتے ہیں وہ خدا کی قدر نہیں پہچانتے اور نہیں جانتے خدا کیسا ہونا چاہیے اور پھر فرمایا کہ خدا امن کا بخشنے والا اور اپنے کمالات اور توحید پر دلائل قائم کرنے والا ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بچے خدا کا ماننے والا کسی مجلس میں شرمندہ نہیں ہو سکتا اور نہ خدا کے سامنے شرمندہ ہوگا کیونکہ اس کے پاس زبر دست دلائل ہوتے ہیں لیکن بناوٹی خدا کا ماننے والا بڑی مصیبت میں ہوتا ہے۔ وہ بجائے دلائل بیان کرنے کے ہر ایک بے ہودہ بات کو راز میں داخل کرتا ہے تاہنسی نہ ہو اور ثابت شدہ غلطیوں کو چھپانا چاہتا ہے۔ اور پھر فرمایا که الميهمن العزيز الجبار المتکبر یعنی وہ سب کا محافظ ہے اور سب پر غالب اور بگڑے ہوئے کاموں کا بنانے والا ہے اور اس کی ذات نہایت ہی مستغنی ہے اور فرمایا۔ هُوَ اللهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى یعنی وہ ایسا خدا ہے کہ جسموں کا بھی پیدا کرنے والا اور روحوں کا بھی پیدا کرنے والا۔ رحم میں تصویر کھینچنے والا ہے۔ تمام نیک نام جہاں تک خیال میں آ سکیں سب اُسی کے نام ہیں۔ اور پھر فرمایا ۔ يسبح له ما فِى السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ۔ یعنی آسمان کے لوگ بھی اس کے نام کو پاکی سے یاد کرتے ہیں اور زمین کے لوگ بھی۔ اس آیت میں اشارہ فرمایا کہ آسمانی اجرام میں آبادی ہے اور وہ لوگ بھی پابند خدا کی ہدایتوں کے ہیں اور پھر فرمایا عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ یعنی خدا بڑا قادر ہے۔ یہ پرستاروں کے لئے تسلی ہے کیونکہ اگر خدا عاجز ہو اور قادر نہ ہو تو ایسے خدا سے کیا امید رکھیں اور پھر فرمایا۔ ربّ العالمين۔