اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 368
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۶۲ اسلامی اصول کی فلاسفی متعلق خلق یہ ہے کہ جب کوئی چیز اپنے ہاتھ سے جاتی رہے تو اس چیز کو خدا تعالی کی امانت سمجھ کر کوئی شکایت منہ پر نہ لا وے اور یہ کہے کہ خدا کا تھا خدا نے لے لیا اور ہم اُس کی رضا کے ساتھ راضی ہیں۔ اس کے متعلق خدا تعالیٰ کا پاک کلام قرآن شریف ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے۔ وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّبِرِيْنَ ۔ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رُجِعُوْنَ ۔ أُولَيكَ عَلَيْهِمْ صَلَوتُ مِنْ رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَيكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ یعنی اے مومنو! ہم تمہیں اس طرح پر آزماتے رہیں گے کہ کبھی کوئی خوفناک حالت تم پر طاری ہوگی اور کبھی فقر و فاقہ تمہارے شامل حال ہوگا اور کبھی تمہارا مالی نقصان ہوگا اور کبھی جانوں پر آفت آئے گی اور کبھی اپنی محنتوں میں ناکام رہو گے اور حسب المراد نتیجے کوششوں کے نہیں نکلیں گے اور کبھی تمہاری پیاری اولا د مرے گی ۔ پس ان لوگوں کو خوشخبری ہو کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم خدا کی چیزیں اور اس کی امانتیں اور اس کے مملوک ہیں۔ پس حق یہی ہے کہ جس کی امانت ہے اس کی طرف رجوع کرے۔ یہی لوگ ہیں جن پر خدا کی رحمتیں ہیں اور یہی لوگ ہیں جو خدا کی راہ کو پاگئے ۔ غرض اس خلق کا نام صبر اور رضا بر رضائے الہی ہے۔ اور ایک طور سے اس خلق کا نام (۳۷) عدل بھی ہے کیونکہ جبکہ خدا تعالیٰ انسان کی تمام زندگی میں اس کی مرضی کے موافق کام کرتا ہے اور نیز ہزار ہا با تیں اس کی مرضی کے موافق ظہور میں لاتا ہے اور انسان کی خواہش کے مطابق اس قدر نعمتیں اس کو دے رکھی ہیں کہ انسان شمار نہیں کر سکتا تو پھر یہ شرط انصاف نہیں کہ اگر وہ کبھی اپنی مرضی بھی منوانا چاہے تو انسان منحرف ہو اور اس کی رضا کے ساتھ راضی نہ ہواور چون و چرا کرے یا بے دین اور بے راہ ہو جائے۔ حمید اصل مسودہ میں ” اس خلق کے “ کے الفاظ مرقوم ہیں ۔ ( ناشر ) البقرة : ۱۵۶ تا ۱۵۸