اِسلامی اُصول کی فلاسفی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 364 of 550

اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 364

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۵۸ اسلامی اصول کی فلاسفی ایسا ہی وہ مال غلاموں کے آزاد کرنے کے لئے اور محتاج اور قرض داروں اور آفت زدہ لوگوں کی مدد کے لئے بھی اور دوسری راہوں میں جو محض خدا کے لئے ہوں خرچ ہوگا ۔ تم حقیقی نیکی کو ہرگز نہیں پاسکتے جب تک کہ بنی نوع کی ہمدردی میں وہ مال خرچ نہ کرو جو تمہارا پیارا مال ہے۔ غریبوں کا حق ادا کرو۔ مسکینوں کو دو۔ مسافروں کی خدمت کرو اور فضولیوں سے اپنے تئیں بچاؤ یعنی بیا ہوں شادیوں میں اور طرح طرح کی عیاشی کی جگہوں میں اور لڑکا پیدا ہونے کی رسوم میں جو اسراف سے مال خرچ کیا جاتا ہے اس سے اپنے تئیں بچاؤ تم ما باپ سے نیکی کرو اور قریبیوں سے اور یتیموں سے اور مسکینوں سے اور ہمسایہ سے جو تمہارا قریبی ہے اور ہمسایہ سے جو بیگانہ ہے اور مسافر سے اور نوکر اور غلام اور گھوڑے اور بکری اور بیل اور گائے سے اور حیوانات سے جو تمہارے قبضہ میں ہوں کیونکہ خدا کو جو تمہارا خدا ہے یہی عادتیں پسند ہیں ۔ وہ لا پرواہوں اور خود غرضوں سے محبت نہیں کرتا اور ایسے لوگوں کو نہیں چاہتا جو بخیل ہیں اور لوگوں کو بخل کی تعلیم دیتے ہیں اور اپنے مال کو چھپاتے ہیں یعنی محتاجوں کو کہتے ہیں کہ ہمارے پاس کچھ نہیں۔ حقیقی شجاعت اور منجملہ انسان کی طبعی حالتوں کے وہ حالت ہے جو شجاعت سے مشابہ ہوتی ہے جیسا کہ شیر خوار بچہ بھی اسی قوت کی وجہ سے کبھی آگ میں ہاتھ ڈالنے لگتا ہے کیونکہ انسان کا بچہ بباعث فطرتی جو ہر غلبہ انسانیت کے ڈرانے والے نمونوں سے پہلے کسی چیز سے بھی نہیں ڈرتا۔ اس حالت میں انسان نہایت بے باکی سے شیروں اور دوسرے جنگلی درندوں کا بھی مقابلہ کرتا ہے اور تن تنہا مقابلہ کے لئے کئی آدمیوں سے لڑنے کے لئے نکلتا ہے۔ اور لوگ جانتے ہیں کہ بڑا بہادر ہے لیکن یہ صرف ایک طبعی حالت ہے کہ اور درندوں میں بھی پیدا ہوتی ہے بلکہ کتوں میں بھی پائی جاتی ہے اور حقیقی شجاعت جو محل اور موقع کے ساتھ خاص ہے اور جو اخلاق فاضلہ میں سے ایک خلق ہے وہ ان محل اور موقع کے امور کا نام ہے جن کا ذکر خدا تعالیٰ کے پاک کلام میں اس طرح پر آیا ہے : عملہ اصل مسودہ میں " کہ جس طرح اور “ کے الفاظ مرقوم ہیں۔ (ناشر) اصل مسودہ میں ” ایسا ہی انسان میں پائی جاتی ہے “ کے الفاظ مرقوم ہیں۔(ناشر)