اِسلامی اُصول کی فلاسفی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 352 of 550

اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 352

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۴۶ اسلامی اصول کی فلاسفی حَسِيبًا وَلْيَخْشَ الَّذِينَ لَوْ تَرَكُوا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّيَّةً ضِعْفًا خَافُوا عَلَيْهِمْ فَلْيَتَّقُوا اللهَ وَلْيَقُوْلُوْا قَوْلًا سَدِيدًا إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتْى ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا ل ترجمہ یعنی اگر کوئی ایسا تم میں مالدار ہو جو صحیح العقل نہ ہو مثلا میتیم یا نا بالغ ہو اور اندیشہ ہو کہ وہ اپنی حماقت سے اپنے مال کو ضائع کر دے گا تو تم ( بطور کورٹ آف وار ڈس کے ) وہ تمام مال اس کا متکفل کے طور پر اپنے قبضہ میں لے لو اور وہ تمام مال جس پر سلسلہ تجارت اور معیشت کا چلتا ہے ان بیوقوفوں کے حوالہ مت کرو اور اس مال میں سے بقدر ضرورت ان کے کھانے اور پہننے کے لئے دے دیا کرو اور ان کو اچھی باتیں قول معروف کی کہتے رہو یعنی ایسی باتیں جن سے ان کی عقل اور تمیز بڑھے اور ایک طور سے ان کے مناسب حال ان کی تربیت ہو جائے اور جاہل اور نا تجربہ کار نہ رہیں۔ اگر وہ تاجر کے بیٹے ہیں تو تجارت کے طریقے ان کو سکھلاؤ اور اگر کوئی اور پیشہ رکھتے ہوں تو اس پیشہ کے مناسب حال ان کو پختہ کر دو ۔ غرض ساتھ ساتھ ان کو تعلیم دیتے جاؤ اور اپنی تعلیم کا وقتاً فوقتاً امتحان بھی کرتے جاؤ کہ جو کچھ تم نے سکھلایا انہوں نے سمجھا بھی ہے یا نہیں ۔ پھر جب نکاح کے لائق ہو جاویں یعنی عمر قریباً اٹھارہ برس تک پہنچ جائے اور تم دیکھو کہ ان میں اپنے مال کے انتظام کی عقل پیدا ہو گئی ہے تو ان کا مال ان کے حوالہ کرو اور فضول خرچی کے طور پر ان کا مال خرچ نہ کرو اور نہ اس خوف سے جلدی کر کے کہ اگر یہ بڑے ہو جائیں گے تو اپنا مال لے لیں گے، ان کے مال کا نقصان کرو۔ جو شخص دولتمند ہو اس کو نہیں چاہیے کہ ان کے مال میں سے کچھ حق الخدمت لیوے لیکن ایک محتاج بطور معروف لے سکتا ہے۔ عرب میں مالی محافظوں کے لئے یہ طریق معروف تھا کہ اگر یتیموں کے کار پردازان کے مال میں سے لینا چاہتے تو حتی الوسع یہ قاعدہ جاری رکھتے کہ جو کچھ یتیم کے مال کو تجارت سے فائدہ ہوتا اس میں سے آپ بھی لیتے۔ راس المال کو تباہ نہ کرتے ۔ سو سیاسی عادت کی طرف اشارہ ہے کہ تم النساء :٧،٦ النساء : ١١،١٠ (Court of wards) ✓