اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 351
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۴۵ اسلامی اصول کی فلاسفی مرنے کے قریب ہو جائے مگر دوسری عورت کے دودھ سے طبعاً بیزار ہوتا ہے۔ اس قدر نفرت کا کیا بھید ہے؟ بس یہی کہ وہ والدہ کو چھوڑ کر غیر کی چیز کی طرف رجوع کرنے سے طبعاً متنفر ہے۔ اب ہم جب ایک گہری نظر سے بچہ کی اس عادت کو دیکھتے اور اس پر غور کرتے ہیں اور فکر کرتے کرتے اس کی اس عادت کی تہ تک چلے جاتے ہیں تو ہم پر صاف کھل جاتا ہے کہ یہ عادت جو غیر کی چیز سے اس قدر نفرت کرتا کہ اپنے اوپر مصیبت ڈال لیتا ہے۔ یہی جڑ دیانت اور امانت کی ہے اور دیانت کے خلق میں کوئی شخص راستباز نہیں ٹھہر سکتا جب تک بچہ کی طرح غیر کے مال کے بارے میں بھی کچی نفرت اور کراہت اس کے دل میں پیدا نہ ہو جائے لیکن بچہ اس عادت کو اپنے محل پر استعمال نہیں کرتا اور اپنی بیوقوفی کے سبب سے بہت کچھ تکلیفیں اٹھا لیتا ہے۔ لہذا اس کی یہ عادت صرف ایک حالت طبعی ہے جس کو وہ بے اختیار ظاہر کرتا ہے اس لئے وہ حرکت اس کے خلق میں داخل نہیں ہو سکتی گو انسانی سرشت میں اصل جڑ خلق دیانت اور امانت کی وہی ہے جیسا کہ بچہ اس غیر معقول حرکت سے متدین اور امین نہیں کہلا سکتا۔ ایسا ہی وہ شخص بھی اس خلق سے متصف نہیں ہو سکتا جو اس طبعی حالت کو محل پر استعمال نہیں کرتا۔ امین اور دیانت دار بننا بہت نازک امر ہے۔ جب تک انسان اس کے تمام پہلو بجا نہ لاوے۔ امین اور دیانت دار نہیں ہو سکتا۔ اس میں اللہ تعالی نے نمونہ کے طور پر آیات مفصلہ ذیل میں امانت کا طریق سمجھایا ہے اور وہ طریق امانت یہ ہے۔ وَلَا تُؤْتُوا السُّفَهَاءَ أَمْوَالَكُمُ الَّتِي جَعَلَ اللهُ لَكُمْ قِيمًا وَّارْزُقُوهُمْ فِيهَا وَاكْسُوهُمْ وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلًا مَعْرُوفًا وَابْتَلُوا الْيَتْلَى حَتَّى إِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ فَإِنْ أَنَسْتُمْ مِّنْهُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوا إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ وَلَا تَأْكُلُوهَا إِسْرَافًا وَبِدَارًا اَنْ يَّكْبَرُوا وَمَنْ كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ فَإِذَا دَفَعْتُمُ إِلَيْهِمُ أَمْوَالَهُمْ فَأَشْهِدُوْا عَلَيْهِمْ ۖ وَكَفَى بِاللَّهِ