اِسلامی اُصول کی فلاسفی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 350 of 550

اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 350

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۴۴ اسلامی اصول کی فلاسفی بھوکے کتے کے آگے نرم نرم روٹیاں رکھ دیں اور پھر امید رکھیں کہ اس کتے کے دل میں خیال تک ان روٹیوں کا نہ آوے تو ہم اپنے اس خیال میں غلطی پر ہیں۔ سو خدا تعالیٰ نے چاہا کہ نفسانی قوی کو پوشیدہ کارروائیوں کا موقع بھی نہ ملے اور ایسی کوئی بھی تقریب پیش نہ آوے جس سے بدخطرات جنبش کر سکیں۔ غض بصر اسلامی پردہ کی یہی فلاسفی اور یہی ہدایت شرعی ہے۔ خدا کی کتاب میں پردہ سے یہ مراد نہیں کہ فقط عورتوں کو قیدیوں کی طرح حراست میں رکھا جائے ۔ بیان نادانوں کا خیال ہے جن کو اسلامی طریقوں کی خبر نہیں بلکہ مقصود یہ ہے کہ عورت مرد دونوں کو آزاد نظر اندازی اور اپنی زینتوں کے دکھانے سے روکا جائے کیونکہ اس میں دونوں مرد اور عورت کی بھلائی ہے۔ بالآ خر یا در ہے که خوابیدہ نگاہ سے غیر محل پر نظر ڈالنے سے اپنے تئیں بچا لینا اور دوسری جائز النظر چیزوں کو دیکھنا اس طریق کو عربی میں غض بصر کہتے ہیں اور ہر ایک پر ہیز گار جو اپنے دل کو پاک رکھنا چاہتا ہے اس کو نہیں چاہیے کہ حیوانوں کی طرح جس طرف چاہے بے محابا نظر اٹھا کر دیکھ لیا کرے بلکہ اس کیلئے اس تمدنی زندگی میں غض بصر کی عادت ڈالنا ضروری ہے اور یہ وہ مبارک عادت ہے جس سے اس کی یہ طبعی حالت ایک بھاری خلق کے رنگ میں آجائے گی اور اس کی تمدنی ضرورت میں بھی فرق نہیں پڑے گا۔ یہی وہ خلق ہے جس کو احصان اور عفت کہتے ہیں۔ دوسری قسم ترک شر کے اقسام میں سے وہ خلق ہے جس کو امانت و دیانت کہتے ہیں۔ (۲۵) یعنی دوسرے کے مال پر شرارت اور بدنیتی سے قبضہ کر کے اس کو ایذا پہنچانے پر راضی نہ ہونا۔ سو واضح ہو کہ دیانت اور امانت انسان کی طبیعی حالتوں میں سے ایک حالت ہے۔ اسی واسطے ایک بچہ شیر خوار بھی جو بوجہ کم سنی اپنی طبعی سادگی پر ہوتا ہے اور نیز باعث صغرسنی ابھی بری عادتوں کا عادی نہیں ہوتا، اس قدر غیر کی چیز سے نفرت رکھتا ہے کہ غیر عورت کا دودھ بھی مشکل سے پیتا ہے اور اگر بے ہوشی کے زمانہ میں کوئی اور دایہ مقرر نہ ہو تو ہوش کے زمانہ میں اس کو دوسرے کا دودھ پلانا نہایت مشکل ہو جاتا ہے اور اپنی جان پر بہت تکلیف اٹھاتا ہے اور ممکن ہے کہ اس تکلیف سے