اِسلامی اُصول کی فلاسفی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 348 of 550

اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 348

۳۴۲ روحانی خزائن جلد ۱۰ اسلامی اصول کی فلاسفی سے بچا ئیں یعنی ان کی پر شہوات آواز میں نہ سنیں اور اپنے ستر کی جگہ کو پردہ میں رکھیں اور اپنی زینت کے اعضاء کو کسی غیر محرم پر نہ کھولیں اور اپنی اوڑھنی کو اس طرح سر پر لیں کہ گریبان سے ہو کر سر پر آجائے یعنی گریبان اور دونوں کان اور سر اور کنپٹیاں سب چادر کے پردہ میں رہیں اور اپنے پیروں کو زمین پر ناچنے والوں کی طرح نہ ماریں۔ یہ وہ تدبیر ہے کہ جس کی پابندی ٹھوکر سے بچا سکتی ہے۔ اور دوسرا طریق بچنے کے لئے یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کریں اور اس سے دعا کریں تا ٹھوکر سے بچاوے اور لغزشوں سے نجات دے۔ زنا کے قریب مت جاؤ یعنی ایسی تقریبوں سے دور رہو جن سے یہ خیال بھی دل میں پیدا ہوسکتا ہو اور ان راہوں کو اختیار نہ کرو (۲۳) جن سے اس گناہ کے وقوع کا اندیشہ ہو۔ جو زنا کرتا ہے وہ بدی کو انتہا تک پہنچا دیتا ہے۔ زنا کی راه بہت بری راہ ہے یعنی منزل مقصود سے روکتی ہے اور تمہاری آخری منزل کیلئے سخت خطرناک ہے۔ اور جس کو نکاح میسر نہ آوے چاہیے کہ وہ اپنی عفت کو دوسرے طریقوں سے بچاوے۔ مثلاً روزہ رکھے یا کم کھاوے یا اپنی طاقتوں سے تن آزار کام لے اور اور لوگوں نے یہ بھی طریق نکالے ہیں کہ وہ ہمیشہ عمداً نکاح سے دست بردار رہیں یا خوجے بہنیں اور کسی طریق سے رہبانیت اختیار کریں مگر ہم نے انسان پر یہ حکم فرض نہیں کئے اس لئے وہ ان بدعتوں کو پورے طور پر نبھا نہ سکے۔ خدا کا یہ فرمانا کہ ہمارا یہ حکم نہیں کہ لوگ خوجے بنیں۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ اگر خدا کا حکم ہوتا تو سب لوگ اس حکم پر عمل کرنے کے مجاز بنتے تو اس صورت میں بنی آدم کی قطع نسل ہو کر کبھی کا دنیا کا خاتمہ ہو جاتا اور نیز اگر اس طرح پر عفت حاصل کرنی ہو کہ عضو مردی کو کاٹ دیں تو یہ در پردہ اس صانع پر اعتراض ہے جس نے وہ عضو بنایا اور نیز جبکہ ثواب کا تمام مدار اس بات پر ہے کہ ایک قوت موجود ہو اور پھر انسان خدا تعالیٰ کا خوف کر کے اس قوت کے خراب جذبات کا مقابلہ کرتا رہے۔ اور اس کے منافع سے فائدہ اٹھا کر دو طور کا ثواب حاصل کرے۔ پس ظاہر ہے کہ ایسے عضو کے ضائع کر دینے میں دونوں ثوابوں سے محروم رہا۔ تو اب تو جذبہ مخالفانہ کے وجود اور پھر اس کے مقابلہ سے ملتا ہے مگر جس میں بچہ کی طرح وہ قوت ہی نہیں رہی اس کو کیا ثواب ملے گا۔ کیا بچہ کو اپنی عفت کا ثواب