اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 347
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۴۱ اسلامی اصول کی فلاسفی خلق کی مد میں داخل کی جائیں گی جبکہ عقل کے زیر سایہ ہو کر اپنے محل پر صادر ہوں یا صادر ہونے کی قابلیت پیدا کر لیں۔ لہذا جیسا کہ میں لکھ چکا ہوں بچے اور نامرد اور ایسے لوگ جو کسی تدبیر سے اپنے تئیں نامرد کر لیں اس خلق کا مصداق نہیں ٹھہر سکتے گو بظاہر عفت اور احصان کے رنگ میں اپنی زندگی بسر کریں بلکہ تمام صورتوں میں ان کی عفت اور احصان کا نام طبعی حالت ہوگا نہ اور کچھ۔ اور چونکہ یہ نا پاک حرکت اور اس کے مقدمات جیسے مرد سے صادر ہو سکتے ہیں ویسے ہی عورت سے بھی صادر ہو سکتے ہیں لہذا خدا کی پاک کتاب میں دونوں مرد اور عورت کے لئے یہ تعلیم فرمائی گئی ہے۔ قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْ لَهُمْ لَا وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِ بْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ ۔۔۔۔۔ وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِنْ زِينَتِهِنَّ وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَى إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا ] وَلْيَسْتَعْفِفِ الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ نِكَاحًا " وَرَهْبَانِيَّةَ ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنُهَا عَلَيْهِمْ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا ۔ یعنی ایمانداروں کو جو مرد ہیں کہہ دے کہ آنکھوں کو نامحرم عورتوں کے دیکھنے سے بچائے رکھیں اور ایسی عورتوں کو کھلے طور سے نہ دیکھیں جو شہوت کا محل ہو سکتی ہوں اور ایسے موقع پر خوابیدہ نگاہ کی عادت پکڑیں اور اپنے ستر کی جگہ کو جس طرح ممکن ہو بچاویں ۔ ایسا ہی کانوں کو نامحرموں سے بچاویں یعنی بیگا نہ عورتوں کے گانے بجانے اور خوش الحانی کی آوازیں نہ سنیں ۔ ان کے حسن کے قصے نہ سنیں ۔ یہ طریق پاک نظر اور پاک دل رہنے کے لئے عمدہ طریق ہے ۔ ایسا ہی ایماندار عورتوں کو کہہ دے کہ وہ بھی اپنی آنکھوں کو نامحرم مردوں کے دیکھنے سے بچائیں اور اپنے کانوں کو بھی نامحرموں النور : ۲ النور: ۳۲ ۳ بنی اسرائیل: ۳۳ النور : ۴ ه الحديد ۲۸