اِسلامی اُصول کی فلاسفی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 346 of 550

اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 346

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۴۰ اسلامی اصول کی فلاسفی محفوظ رہنے کا فائدہ پہنچا سکے یا اس کو ایسی سزا دے سکے جو حقیقت میں اس کیلئے سراسر رحمت ہے۔ اخلاق متعلق ترک شر اب واضح ہو کہ وہ اخلاق جو ترک شر کے لئے صانع حقیقی نے مقرر فرمائے ہیں وہ زبان عربی میں جو تمام انسانی خیالات اور اوضاع اور اخلاق کے اظہار کے لئے ایک ایک مفرد لفظ اپنے اندر رکھتی ہے۔ چار ناموں سے موسوم ہیں۔ چنانچہ پہلا تعلق احصان کے نام سے موسوم ہے اور اس لفظ سے مراد خاص وہ پاک دامنی ہے جو مرد اور عورت کی قوت تناسل سے علاقہ رکھتی ہے اور محصن یا محصنہ اس مرد یا اس عورت کو کہا جائے گا کہ جو حرام کاری یا اس کے مقدمات سے مجتنب رہ کر اس نا پاک بدکاری سے اپنے تئیں رو کے جس کا نتیجہ دونوں کے لئے اس عالم میں ذلت اور لعنت اور دوسرے جہان میں عذاب آخرت اور متعلقین کے لئے علاوہ بے آبروئی نقصان شدید ہے مثلاً جو شخص کسی کی بیوی سے ناجائز حرکت کا مرتکب ہو یا مثلاً زنا تو نہیں مگر اس کے مقدمات مرد اور عورت دونوں سے ظہور میں آویں تو کچھ شک نہیں کہ اس غیرت مند مظلوم کی ایسی بیوی کو جو زنا کرانے پر راضی ہوگئی تھی یا زنا بھی واقع ہو چکا تھا۔ طلاق دینی پڑے گی اور بچوں پر بھی اگر اس عورت کے پیٹ سے ہوں گے بڑا تفرقہ پڑے گا اور مالک خانہ یہ تمام نقصان اس بدذات کی وجہ سے اٹھائے گا۔ اس جگہ یادر ہے کہ یہ طلق جس کا نام احصان یا عفت ہے یعنی پاکدامنی۔ سیاسی حالت میں خلق کہلائے گا جبکہ ایسا شخص جو بد نظری یا بدکاری کی استعداد اپنے اندر رکھتا ہے یعنی قدرت نے وہ قومی اس کو دے رکھے ہیں جن کے ذریعہ سے اس جرم کا ارتکاب ہو سکتا ہے۔ اس فعل شنیع سے اپنے تئیں بچائے اور اگر باعث بچہ ہونے یا نامرد ہونے یا خوجہ ہونے یا پیر فرتوت ہونے کے یہ قوت اس میں موجود نہ ہو تو اس صورت میں ہم اس کو اس تخلق سے جس کا نام احصان یا عفت (۲۲) ہے موصوف نہیں کر سکتے ۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ عفت اور احسان کی اس میں ایک طبعی حالت ہے مگر ہم بار بار لکھ چکے ہیں کہ طبعی حالتیں خلق کے نام سے موسوم نہیں ہوسکتیں بلکہ اس وقت