اِسلامی اُصول کی فلاسفی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 345 of 550

اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 345

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۳۹ اسلامی اصول کی فلاسفی بھی کھانے والے کو اپنے رنگ میں لاتا ہے اور نیز ظاہری صحت کے لئے بھی مضر ہے اور جن جانوروں کا خون اندر ہی رہتا ہے جیسے گلا گھونٹا ہوا یا لاٹھی سے مارا ۔ یہ تمام جانور در حقیقت مردار کے حکم میں ہی ہیں۔ کیا مردہ کا خون اندر رہنے سے اپنی حالت پر رہ سکتا ہے؟ نہیں بلکہ وہ بوجہ مرطوب ہونے کے بہت جلد گندہ ہوگا اور اپنی عفونت سے تمام گوشت کو خراب کرے گا اور نیز خون کے کیڑے جو حال کی تحقیقات سے بھی ثابت ہوئے ہیں۔ مرکز ایک زہر ناک عفونت بدن میں پھیلا دیں گے۔ انسان کی اخلاقی حالتیں دوسرا حصہ قرآنی اصلاح کا یہ ہے کہ طبعی حالتوں کو شرائط مناسبہ کے ساتھ مشروط کر کے اخلاق فاضلہ تک پہونچایا جائے۔ سو واضح ہو کہ یہ حصہ بہت بڑا ہے۔ اگر ہم اس حصہ کو تفصیل کے ساتھ بیان کریں یعنی تمام وہ اخلاق اس جگہ لکھنا چاہیں جو قرآن شریف نے بیان کئے تو یہ مضمون اس قدر لمبا ہو جائے گا کہ وقت اس کے دسویں حصہ تک کو بھی کفایت نہیں کرے گا۔ اس لئے چند اخلاق فاضلہ نمونے کے طور پر بیان کئے جاتے ہیں۔ اب جاننا چاہیے کہ اخلاق دو قسم کے ہیں۔ اول وہ اخلاق جن کے ذریعہ سے انسان ترک شر پر قادر ہوتا ہے۔ دوسرے وہ اخلاق جن کے ذریعہ سے انسان ایصال خیر پر قادر ۲۱ ہوتا ہے اور ترک شر کے مفہوم میں وہ اخلاق داخل ہیں جن کے ذریعہ انسان کوشش کرتا ہے کہ تا اپنی زبان یا اپنے ہاتھ یا اپنی آنکھ یا اپنے کسی اور عضو سے دوسرے کے مال یا عزت یا جان کو نقصان نہ پہونچا دے یا نقصان رسانی اور کسر شان کا ارادہ نہ کرے اور ایصال خیر کے مفہوم میں تمام وہ اخلاق داخل ہیں جن کے ذریعہ سے انسان کوشش کرتا ہے کہ اپنی زبان یا اپنے ہاتھ یا اپنے علم یا کسی اور ذریعہ سے دوسرے کے مال یا عزت کو فائدہ پہونچا سکے یا اس کے جلال یا عزت ظاہر کرنے کا ارداہ کر سکے یا اگر کسی نے اس پر کوئی ظلم کیا تھا تو جس سزا کا وہ ظالم مستحق تھا اس سے در گزر کر سکے اور اس طرح اس کو دکھ اور عذاب بدنی اور تاوانِ مالی سے اصل مسودہ میں ” یا اپنے مال “ کے الفاظ بھی مرقوم ہیں ۔ (ناشر ) اصل مسودہ میں ” یا جان “ کے الفاظ بھی مرقوم ہیں ۔ ( ناشر )