اِسلامی اُصول کی فلاسفی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 334 of 550

اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 334

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۲۸ اسلامی اصول کی فلاسفی ادنی درجہ کی اصلاح ہے۔ یہ اس قسم کی اصلاح ہے کہ اگر مثلاً پورٹ بلیر کے جنگلی آدمیوں میں سے کسی آدمی کو انسانیت کے لوازم سکھلانا ہوتو پہلے ادنی ادنی اخلاق انسانیت اور طریق ادب کی ان کو تعلیم دی جائے گی۔ دوسرا طریق اصلاح کا یہ ہے کہ جب کوئی ظاہری آداب انسانیت کے حاصل کر لیوے تو اس کو بڑے بڑے اخلاق انسانیت کے سکھلائے جائیں اور انسانی قوئی میں جو کچھ بھرا پڑا ہے۔ ان سب کو محل اور موقعہ پر استعمال کرنے کی تعلیم دی جائے۔ تیسرا طریق اصلاح کا یہ ہے کہ جو لوگ اخلاق فاضلہ سے متصف ہو گئے ہیں ایسے خشک زاہدوں کو شربت محبت اور وصل کا مزا چکھایا جائے ۔ یہ تین اصلاحیں ہیں جو قرآن شریف نے بیان فرمائی ہیں۔ رسول الله عله اصلاح کی کامل ضرورت کے وقت مبعوث ہوئے اور ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایسے وقت میں مبعوث ہوئے تھے جبکہ دنیا ہر ایک پہلو سے خراب اور تباہ ہو چکی تھی جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِ یعنی جنگل بھی بگڑ گئے اور دریا بھی بگڑ گئے ۔ یہ اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ جو اہل کتاب کہلاتے ہیں وہ بھی بگڑ گئے اور جو دوسرے لوگ ہیں جن کو الہام کا پانی نہیں ملا وہ بھی بگڑ گئے ہیں۔ پس قرآن شریف کا کام دراصل مردوں کو زندہ کرنا تھا جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔ اعْلَمُوا أَنَّ اللهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا بِ یعنی یہ بات جان لو کہ اب اللہ تعالیٰ نئے سرے سے زمین کو بعد اس کے مرنے کے زندہ کرنے لگا ہے۔ اس زمانہ میں عرب کا حال نہایت درجہ کی وحشیانہ حالت تک پہونچا ہوا تھا اور کوئی نظام انسانیت کا باقی نہیں رہا تھا اور تمام معاصی ان کی نظر میں فخر کی جگہ تھے ، ایک ایک شخص صد ہا بیویاں کر لیتا تھا، حرام کا کھانا ان کے نزدیک ایک شکار تھا ، ماؤں کے ساتھ نکاح کرنا حلال سمجھتے تھے۔ اسی الروم : ۴۲ ۲ الحديد : ۱۸ حلا اصل مسودہ میں ” کا ان میں باقی “ کے الفاظ مرقوم ہیں۔(ناشر)