اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 333
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۲۷ اسلامی اصول کی فلاسفی تک مانتا ہوں کہ کوئی شخص دکھ کے وقت جو کوں کے لگانے سے بھی پر ہیز کرے اور آپ دکھ اٹھالے اور غریب جوک کی موت کا خواہاں نہ ہو۔ بالآ خر اگر کوئی مانے یا نہ مانے مگر میں مانتا ہوں کہ کوئی شخص اس قدر رحم کو کمال کے نقطہ تک پہنچاوے کہ پانی پینا چھوڑ دے اور اس طرح پانی کے کیڑوں کے بچانے کیلئے اپنے تئیں ہلاک کرے۔ میں یہ سب کچھ قبول کرتا ہوں لیکن میں ہرگز قبول نہیں کر سکتا کہ یہ تمام طبعی حالتیں اخلاق کہلا سکتی ہیں یا صرف انہیں سے وہ اندرونی گند دھوئے جا سکتے ہیں جن کا وجود خدا کے ملنے کی روک ہے ۔ میں کبھی باور نہیں کروں گا کہ اس طرح کا غریب اور بے آزار بننا جس میں بعض چار پائیوں اور پرندوں کا کچھ نمبر بڑھا ہوا ہے اعلیٰ انسانیت کے حصول کا موجب ہو سکتا ہے بلکہ میرے نزدیک یہ قانون قدرت سے لڑائی ہے اور رضا کے بھاری خُلق کے برخلاف اور اس نعمت کو رد کرنا ہے جو قدرت نے ہم کو عطا کی ہے بلکہ وہ روحانیت ہر ایک محلق کومحل اور موقعہ پر استعمال کرنے کے بعد اور پھر خدا کی راہوں میں وفاداری کے ساتھ قدم مارنے سے اور اسی کا ہو جانے سے ملتی ہے ۔ جو اس کا ہو جاتا ہے اس کی یہی نشانی ہے کہ وہ اس کے بغیر جی ہی نہیں سکتا ۔ عارف ایک مچھلی ہے جو خدا کے ہاتھ سے ذبح کی گئی اور اس کا پانی خدا کی محبت ہے۔ اصلاح کے تین طریق اب میں پہلے کلام کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ میں ابھی ذکر کر چکا ہوں کہ انسانی حالتوں (۱۲) کے سرچشمے تین ہیں یعنی نفس امارہ نفس لوامہ نفس مطمئنہ اور طریق اصلاح کے بھی تعین ہیں۔ اول یہ کہ بے تمیز وحشیوں کو اس ادنی خلق پر قائم کیا جائے کہ وہ کھانے پینے اور شادی وغیرہ تمدنی امور میں انسانیت کے طریقے پر چلیں۔ نہ ننگے پھر میں اور نہ کتوں کی طرح مردار خوار ہوں اور نہ کوئی اور بے تمیزی ظاہر کریں۔ یہ طبعی حالتوں کی اصلاحوں میں سے