اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 329
۳۲۳ روحانی خزائن جلد ۱۰ اسلامی اصول کی فلاسفی کا خمیر نطفہ میں موجود ہوتا ہے۔ بے شک وہ آسمانی خدا کے ارادہ سے اور اس کے اذن اور اس کی مشیت سے ایک مجہول الکنہ علاقہ کے ساتھ نطفہ سے تعلق رکھتا ہے اور نطفہ کا وہ ایک روشن اور نورانی جو ہر ہے۔ نہیں کہہ سکتے کہ وہ نطفہ کی ایسی جز ہے جیسا کہ جسم جسم کی جز ہوتا ہے مگر یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ وہ باہر سے آتا ہے یا زمین پر گر کر نطفہ کے مادہ سے آمیزش پاتا ہے بلکہ وہ ایسا نطفہ میں مخفی ہوتا ہے جیسا کہ آگ پتھر کے اندر ہوتی ہے۔ خدا کی کتاب کا یہ منشا نہیں ہے کہ روح الگ طور پر آسمان سے نازل ہوتی ہے یا فضا سے زمین پر گرتی ہے اور پھر کسی اتفاق سے نطفہ کے ساتھ مل کر رحم کے اندر چلی جاتی ہے بلکہ یہ خیال کسی طرح صحیح نہیں ٹھہر سکتا۔ اگر ہم ایسا خیال کریں تو قانون قدرت ہمیں باطل پر ٹھہراتا ہے۔ ہم روز مشاہدہ کرتے ہیں کہ گندے اور باسی کھانوں میں اور گندے زخموں میں ہزار ہا کیڑے پڑ جاتے ہیں۔ میلے کپڑوں میں صدہا جو ئیں پڑ جاتی ہیں۔ انسان کے پیٹ کے اندر بھی کدو دانے وغیرہ پیدا ہو جاتے ہیں۔ اب کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ باہر سے آتے ہیں یا آسمان سے اترتے کسی کو دکھائی دیتے ہیں ۔ سو صحیح بات یہ ہے کہ روح جسم میں سے ہی نکلتی ہے اور اسی دلیل سے اس کا مخلوق ہونا بھی ثابت ہوتا ہے۔ روح کی دوسری پیدائش اب اس وقت ہمارا مطلب اس بیان سے یہ ہے کہ جس قادر مطلق نے روح کو قدرت کاملہ کے ساتھ جسم میں سے ہی نکالا ہے اس کا یہی ارادہ معلوم ہوتا ہے کہ روح کی دوسری پیدائش کو بھی جسم کے ذریعہ سے ہی ظہور میں لاوے۔ روح کی حرکتیں ہمارے جسم کی حرکتوں پر موقوف ہیں۔ جس طرف ہم جسم کو کھینچتے ہیں روح بھی بالضرور پیچھے پیچھے کھنچی چلی آتی ہے اس لئے انسان کی طبعی حالتوں کی طرف متوجہ ہونا خدا تعالیٰ کی سچی کتاب کا کام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن شریف نے انسان کی طبعی حالتوں کی اصلاح کیلئے بہت توجہ فرمائی ہے اور انسان کا ہنسنا، رونا، کھانا، پینا، سونا، بولنا، چپ ہونا، بیوی کرنا، مجر در بنا، چلنا اور شہر نا اور ظاہری پاکیزگی نسل ۹۶ وغیرہ کی شرائط بجالانا اور بیماری کی حالت اور صحت کی حالت میں خاص خاص امور کا پابند ہونا