اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 328
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۲۲ د اسلامی اصول کی فلاسفی کا ہو جاتا ہے اور پختہ عقل کو پہنچتا ہے تب اسے خدا کی وصیتیں یاد آتی ہیں اور کہتا ہے کہ اے میرے رب ! اب مجھے توفیق دے کہ تیری ان نعمتوں کا شکر کروں جو مجھے پر اور میرے والدین پر ہیں ۔ اے میرے رب ! اب مجھ سے تو وہ کام کرا جس سے تو راضی ہو جاوے اور میری اولاد کو میرے لئے صلاحیت بخش یعنی اگر میں نے والدین کے حق میں تقصیر کی تو ایسا نہ ہو کہ وہ بھی کریں ۔ اور اگر میرے پر کوئی آوارگی کا زمانہ رہا تو ایسا نہ ہو کہ ان پر آوے۔ اے میرے خدا! اب میں تو بہ کرتا ہوں اور میں تیرے فرمانبرداروں میں سے ہو گیا ہوں ۔ سوخدا تعالیٰ نے اس آیت میں ظاہر فرما دیا کہ چالیسواں سال نیک بندوں پر مبارک آتا ہے اور جس میں سچائی کی روح ہے وہ روح ضرور چالیسویں سال میں حرکت کرتی ہے ۔ خدا کے اکثر بزرگ نبی بھی اسی چالیسویں سال پر ظہور فرما ہوئے ہیں ۔ چنانچہ ہمارے سید و مولی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم چالیسویں برس میں ہی خلق اللہ کی اصلاح کے لئے ظہور فرما ہوئے ۔ حملے روح کا مخلوق ہونا پھر میں پہلی بات کی طرف رجوع کر کے بیان کرتا ہوں کہ یہ بات نهایت درست اور صحیح ہے کہ روح ایک لطیف نور ہے جو اس جسم کے اندر ہی سے پیدا ہو جاتا ہے جو رحم میں پرورش پاتا ہے ۔ پیدا ہونے سے مراد یہ ہے کہ اول مخفی اور غیر محسوس ہوتا ہے پھر نمایاں ہو جاتا ہے اور ابتداء اس