اسلام (لیکچر سیالکوٹ)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 239 of 597

اسلام (لیکچر سیالکوٹ) — Page 239

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۳۹ لیکچر سیالکوٹ ہیں۔ اور وہ لطافت ذہن کی وجہ سے خدا تعالیٰ کی دقیق در دقیق نصرتوں کو اُس فرستادہ کی نسبت محسوس کر کے باریک در بار یک نشانوں پر بھی اطلاع پا لیتے ہیں لیکن اُن کے مقابل پر وہ لوگ بھی ہیں جن کو رحمت کے نشانوں میں سے حصہ لینا نصیب نہیں جیسا کہ نوح کی قوم نے بجز غرق کرنے کے معجزہ کے اور کسی نوع کے معجزہ سے حصہ نہ لیا اور لوط کی قوم نے بجز اس معجزہ کے جو ان کی زمین زیروزبر کی گئی اور اُن پر پتھر برسائے گئے اور کسی معجزہ سے فائدہ نہ اُٹھایا۔ ایسا ہی اس زمانہ میں خدا نے مجھے مامور فرمایا۔ میں دیکھتا ہوں کہ اس زمانہ کے اکثر لوگوں کی طبیعتیں نوح کی قوم سے ملتی ہیں۔ کئی سال گذرے ہیں کہ میرے لئے آسمان پر دو نشان ظاہر ہوئے تھے کہ جو خاندان نبوت کی روایت سے ایک پیشگوئی تھی اور وہ یہ کہ جب امام آخرالزمان دنیا میں ظاہر ہوگا تو اس کے لئے دو نشان ظاہر ہوں گے جو کبھی کسی کے لئے ظاہر نہیں ہوئے یعنی یہ کہ آسمان پر رمضان کے مہینہ میں چاند گرہن ہو گا اور وہ گرہن چاند گرہن کی معمولی راتوں میں سے پہلی رات میں ہو گا اور ان دنوں میں رمضان میں ہی سورج گرہن بھی ہوگا اور وہ گرہن سورج گرہن کے معمولی دنوں میں سے بیچ کے دن میں ہوگا اور یہ پیشگوئی سینیوں اور شیعوں میں متفق علیہ تھی اور لکھا تھا کہ جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے کبھی ایسا ظہور میں نہیں آیا کہ مدعی امامت موجود ہو اور اس کے عہد میں (۳۸) یہ دونوں واقعہ انہیں تاریخوں میں ظہور پذیر ہوں لیکن امام آخر الزمان کے عہد میں ایسا ہی ہوگا اور یہ نشان اسی سے خاص ہوگا اور یہ پیشگوئی ان کتابوں میں لکھی گئی تھی جو آج سے ہزار برس پہلے دنیا میں شائع ہو چکی ہیں لیکن جب یہ پیشگوئی میرے دعوی امامت کے وقت میں ظاہر ہوئی تو کسی نے اس کو قبول نہ کیا اور ایک شخص نے بھی اس عظیم الشان پیشگوئی کو دیکھ کر میری بیعت نہ کی بلکہ گالیاں دینے اور ٹھٹھا کرنے میں اور بھی بڑھ گئے ۔ میرا نام دجال اور کافر اور کذاب وغیرہ رکھا۔ یہ اس لئے ہوا کہ یہ پیشگوئی بطور