اسلام (لیکچر سیالکوٹ)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 234 of 597

اسلام (لیکچر سیالکوٹ) — Page 234

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۳۴ لیکچر سیالکوٹ کہ اس کی روح ہر وقت خدا تعالیٰ کے آستانہ پر گری رہے اور یقین اور محبت اور معرفت اور صدق اور وفا سے بھر جائے اور اس میں ایک خالص تبدیلی پیدا ہو جائے تا اسی دنیا میں بہشتی زندگی اُس کو حاصل ہو۔ لیکن ایسے عقیدوں سے حقیقی نیکی کب اور کس طرح حاصل ہو سکتی ہے جس میں انسانوں کو یہ سبق دیا گیا ہے کہ صرف خونِ مسیح پر ایمان لاؤ اور پھر اپنے دلوں میں سمجھ لو کہ گناہوں سے پاک ہو گئے ۔ یہ کس قسم کا پاک ہونا ہے جس میں تزکیہ نفس کی کچھ بھی ضرورت نہیں بلکہ حقیقی پا کی تب حاصل ہوتی ہے جب انسان گندی زندگی سے تو بہ کر کے ایک پاک زندگی کا خواہاں ہو اور اس کے حصول کے لئے صرف تین باتیں ضروری ہیں۔ ایک تدبیر اور مجاہدہ کہ جہاں تک ممکن ہو گندی زندگی سے باہر آنے کے لئے کوشش کرے۔ اور دوسری دعا کہ ہر وقت جناب الہی میں نالاں رہے تا وہ گندی زندگی سے اپنے ہاتھ سے اس کو باہر نکالے اور ایک ایسی آگ اس میں پیدا کرے جو بدی کے خس و خاشاک کو بھسم کر دے اور ایک ایسی قوت عنایت کرے جو نفسانی جذبات پر غالب آ جاوے اور چاہیے کہ اسی طرح دعا میں لگا رہے جب تک کہ وہ وقت آ جاوے کہ ایک الہی نور اس کے دل پر نازل ہو۔ اور ایک ایسا چمکتا ہوا شعاع اُس کے نفس پر گرے کہ تمام تاریکیوں کو دور کر دے اور اس کی کمزوریاں دور فرمائے اور اس میں پاک تبدیلی پیدا کرے کیونکہ دعاؤں میں بلاشبہ تاثیر ہے۔ اگر مردے زندہ ہو سکتے ہیں تو دعاؤں سے۔ اور اگر اسیر رہائی پا سکتے ہیں تو دعاؤں سے۔ اور اگر گندے پاک ہو سکتے ہیں تو دعاؤں سے مگر دعا کرنا اور مرنا قریب قریب ہے۔ تیسرا طریق صحبت کا ملین اور صالحین ہے۔ کیونکہ ایک چراغ کے ذریعہ سے دوسرا چراغ روشن ہو سکتا ہے۔ غرض یہ تین طریق ہی ۴۲ گناہوں سے نجات پانے کے ہیں۔ جن کے اجتماع سے آخر کار فضل شامل حال ہو جاتا ہے۔ نہ یہ کہ خونِ مسیح کا عقیدہ قبول کر کے آپ ہی اپنے دل میں سمجھ لیں کہ ہم گنا ہوں سے نجات پا گئے ۔ یہ تو اپنے تئیں آپ دھوکا دینا ہے۔ انسان ایک بڑے مطلب کے لئے