اسلام (لیکچر سیالکوٹ)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 233 of 597

اسلام (لیکچر سیالکوٹ) — Page 233

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۳۳ لیکچر سیالکوٹ کرنے کے لئے تیار ہوتا ہے مگر یہ سچائی نہیں ہے کہ اُس خدا کو جس نے اپنی بزرگ قدرتوں سے اپنی ہستی کو ظاہر فرمایا ہے۔ خالقیت سے جواب دیا جاوے اور اُس کو تمام فیضوں کا مظہر نہ سمجھا جائے۔ ایسا پر میشور ہرگز پر میشور نہیں ہوسکتا ۔ انسان نے خدا کو اُس کی قدرتوں سے شناخت کیا ہے۔ جب کوئی قدرت اس میں نہیں رہی اور وہ بھی ہماری طرح اسباب کا محتاج ہے تو پھر اس کی شناخت کا دروازہ بند ہو جائے گا۔ پھر ماسوا اس کے خدا تعالیٰ اپنے احسانات کی وجہ سے قابل عبادت ہے مگر جب کہ اُس نے روحوں کو پیدا ہی نہیں کیا اور نہ اس میں بغیر عمل کسی عامل کے فضل اور احسان کرنے کی صفت موجود ہے تو ایسا پر میشر کس وجہ سے قابل عبادت ٹھہرے گا ؟ جہاں تک ہم غور کرتے ہیں ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ آریہ صاحبوں نے اپنے مذہب کا اچھا نمونہ پیش نہیں کیا۔ پر میشر کو ایسا کمزور اور کینہ ور ٹھہرایا کہ وہ کروڑہا ارب سزادے کر پھر بھی دائمی ملتی نہیں دیتا اور غصہ اُس کا کبھی فرو نہیں ہوتا اور آریہ صاحبوں نے قومی تہذیب پر نیوگ کا ایک سیاہ داغ لگا دیا ہے اور اس طرح پر انہوں نے غریب عورتوں کی عزت پر بھی حملہ کیا اور دونوں پہلو حق اللہ اور حق العباد میں قابل شرم فساد ڈال دیا۔ یہ مذہب پر میشور کو معطل کرنے کے لحاظ سے دہریوں سے بہت قریب ہے اور نیوگ کے لحاظ سے ایک نا قابل ذکر قوم سے قریب۔ اس جگہ مجھے بہت درد دل سے یہ کہنے کی بھی ضرورت پڑی ہے کہ یوں تو اکثر حضرات آریہ صاحبان اور مسیحی صاحبوں کو اسلام کے بچے اور کامل اصولوں پر بے جا حملہ کرنے کی بہت عادت ہے مگر وہ اپنے مذہب میں روحانیت پیدا کرنے سے بہت غافل ہیں ۔ مذہب اس بات کا نام نہیں ہے کہ انسان دنیا کے تمام اکابر اور نبیوں اور رسولوں کو بد گوئی سے یاد کرے۔ ایسا کرنا تو مذہب کی اصل غرض سے مخالف ہے بلکہ مذہب سے غرض یہ ہے کہ انسان اپنے نفس کو ہر ایک بدی سے پاک کر کے اس لائق بنا وے