اسلام (لیکچر سیالکوٹ)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 229 of 597

اسلام (لیکچر سیالکوٹ) — Page 229

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۲۹ لیکچر سیالکوٹ صاف کیا۔ وہ اپنے زمانہ کا در حقیقت نبی تھا جس کی تعلیم کو پیچھے سے بہت باتوں میں بگاڑ دیا گیا۔ وہ خدا کی محبت سے پر تھا اور نیکی سے دوستی اور شر سے دشمنی رکھتا تھا۔ خدا کا وعدہ تھا کہ آخری زمانہ میں اُس کا بروز یعنی اوتار پیدا کرے۔ سو یہ وعدہ میرے ظہور سے پورا ہوا۔ مجھے منجملہ اور الہاموں کے اپنی نسبت ایک یہ بھی الہام ہوا تھا کہ ہے کرشن رو در گوپال تیری مهما گیتا میں لکھی گئی ہے۔ سو میں کرشن سے محبت کرتا ہوں کیونکہ میں اس کا مظہر ہوں اور اس جگہ ایک اور راز درمیان میں ہے کہ جو صفات کرشن کی طرف منسوب کئے گئے ہیں (یعنی پاپ کا نشٹ کرنے والا اور غریبوں کی دلجوئی کرنے والا اور اُن کو پالنے والا ) یہی صفات مسیح موعود کی ہیں ۔ پس گویا روحانیت کی رو سے کرشن اور مسیح موعود ایک ہی ہیں ۔ صرف قومی اصطلاح میں تغائر ہے۔ اب میں بحیثیت کرشن ہونے کے آریہ صاحبوں کو اُن کی چند غلطیوں پر تنبیہ کرتا ہوں۔ اُن میں سے ایک تو وہی ہے جس کا ذکر میں پہلے بھی کر آیا ہوں کہ یہ طریق اور یہ عقیدہ صحیح نہیں ہے کہ روحوں اور ذرات عالم کو جن کو پر کرتی یا پر مانو بھی (۳۵) کہتے ہیں۔ غیر مخلوق اور انادی سمجھا جائے ۔ غیر مخلوق بجز اس پر میشر کے کوئی بھی نہیں جو کسی دوسرے کے سہارے سے زندہ نہیں لیکن وہ چیزیں جو کسی دوسرے کے سہارے سے زندہ ہیں وہ غیر مخلوق نہیں ہوسکتیں ۔ کیا روحوں کے گن خود بخود ہیں؟ اُن کا پیدا کرنے والا کوئی نہیں ؟ اگر یہی صحیح ہے تو روحوں کا جسموں میں داخل ہونا بھی خود بخود ہوسکتا ہے اور ذرات کا اکٹھے ہونا اور متفرق ہونا بھی خود بخود ہو سکتا ہے۔ اس طریق سے پر میشر کا وجود ماننے کے لئے کوئی عقلی دلیل آپ کے ہاتھ میں نہیں رہے گی کیونکہ اگر عقل اس بات کو قبول کر سکتی ہے کہ تمام ارواح معہ اپنے تمام گنوں کے جوان کے اندر پائے جاتے ہیں خود بخود ہیں تو اس دوسری بات کو بھی بہت خوشی سے قبول کر لے گی کہ روحوں اور اجسام کا باہم اتصال یا انفصال بھی خود بخود ہے اور جب کہ خود بخو د ہونے کی بھی راہ کھلی