اسلام (لیکچر سیالکوٹ)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 227 of 597

اسلام (لیکچر سیالکوٹ) — Page 227

۲۲۷ لیکچر سیالکوٹ روحانی خزائن جلد ۲۰ انہیں کے ذریعہ سے دونوں جلا میں پیدا ہوتا ہے اور اُن سے تعلق توڑنا ایسا ہوتا ہے کہ جیسا کہ ایک شاخ اپنے درخت سے تعلق توڑ دے اور ان تعلقات میں کچھ ایسی خاصیت ہے کہ ۳۲ تعلق کرنے کے ساتھ ہی بشرط مناسبت روحانیت کا نشو و نما چار سُو شروع ہو جاتا ہے اور تعلق توڑنے کے ساتھ ہی ایمانی حالت پر گردو غبار آنا شروع ہو جاتا ہے۔ پس یہ نہایت مغرورانہ خیال ہے کہ کوئی یہ کہے کہ مجھے خدا کے نبیوں اور رسولوں کی ضرورت نہیں اور نہ کچھ حاجت۔ یہ سلب ایمان کی نشانی ہے اور ایسے خیال والا انسان اپنے تئیں دھوکا دیتا ہے جب کہ وہ کہتا ہے کہ کیا میں نماز نہیں پڑھتا یا روزہ نہیں رکھتا یا کلمہ گونہیں ہوں ۔ چونکہ وہ سچے ایمان اور بچے ذوق و شوق سے بے خبر ہے اس لئے ایسا کہتا ہے۔ اُس کو سوچنا چاہیے کہ گو انسان کو خدا ہی پیدا کرتا ہے مگر کس طرح اُس نے ایک انسان کو دوسرے انسان کی پیدائش کا سبب بنادیا ہے۔ پس جس طرح جسمانی سلسلہ میں جسمانی باپ ہوتے ہیں جن کے ذریعہ سے انسان پیدا ہوتا ہے۔ ایسا ہی روحانی سلسلہ میں روحانی باپ بھی ہیں جن سے روحانی پیدائش ہوتی ہے۔ ہوشیار رہو اور اپنے تئیں صرف ظاہری صورت اسلام سے دھو کا مت دو اور خدا کی کلام کو غور سے پڑھو کہ وہ تم سے کیا چاہتا ہے۔ وہ وہی امر تم سے چاہتا ہے جس کے بارہ میں سورہ فاتحہ میں تمہیں دعا سکھلائی گئی ہے یعنی یہ دعا کہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ پس جب کہ خدا تمہیں یہ تاکید کرتا ہے کہ پنج وقت یہ دعا کرو کہ وہ نعمتیں جو نبیوں اور رسولوں کے پاس ہیں وہ تمہیں بھی ملیں ۔ پس تم بغیر نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ کے وہ نعمتیں کیونکر پاسکتے ہو۔ لہذا ضرور ہوا کہ تمہیں یقین اور محبت کے مرتبہ پر پہنچانے کے لئے خدا کے انبیاء وقتاً بعد وقت آتے رہیں جن سے تم وہ نعمتیں پاؤ۔ اب کیا تم خدا تعالی کا مقابلہ کرو گے اور اُس کے قدیم قانون کو توڑ دو گے۔ کیا نطفہ کہہ سکتا ہے کہ میں باپ کے ذریعہ سے پیدا ہونا نہیں چاہتا تھا ؟ کیا کان کہہ سکتے ہیں کہ ہم ہوا کے ذریعہ سے سہو کتابت معلوم ہوتا ہے دلوں “ ہونا چاہیے۔(ناشر) الفاتحة : ٧٦