اسلام (لیکچر سیالکوٹ)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 212 of 597

اسلام (لیکچر سیالکوٹ) — Page 212

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۱۲ لیکچر سیالکوٹ زمین پر طاعون بہت پھیل جائے گی اور اونٹ بے کار ہو جائیں گے یعنی ایک اور سواری نکلے گی جو اونٹوں کو بے کار کر دے گی۔ جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ تمام کاروبار تجارتی جو کہ پہلے اونٹوں کے ذریعہ سے چلتے تھے۔ اب ریل کے ذریعہ سے چلتے ہیں اور وہ وقت قریب ہے کہ حج کرنے والے بھی ریل کی سواری میں مدینہ منورہ کی طرف سفر کریں گے اور اس روز اس حدیث کو پورا کر دیں گے جس میں لکھا ہے کہ ویترک القلاص فلا يسعى عليها ۔ پس جبکہ آخری دنوں کے لئے یہ علامتیں ہیں جو پورے طور پر ظاہر ہو چکی ہیں تو اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ دنیا کے دوروں میں سے یہ آخری دور ہے اور جیسا کہ خدا نے سات دن پیدا کئے ہیں اور ہر ایک دن کو ایک ہزار سال سے تشبیہ دی ہے اس تشبیہ سے دنیا کی عمر سات ہونا اور وتر اور کو اور ہزار ہونا نص قرآنی سے ثابت ہے اور نیز خدا و تر ہے اور وتر کو دوست رکھتا ہے اور اس نے جیسا کہ سات دن وتر پیدا کئے ہیں ایسا ہی سات ہزار بھی وتر ہیں۔ ان تمام وجوہات سے سمجھ میں آ سکتا ہے کہ یہی آخری زمانہ اور دنیا کا آخری دور ہے جس کے سر پر مسیح موعود کا ظاہر ہونا کتب الہیہ سے ثابت ہوتا ہے اور نواب صدیق حسن خاں اپنی کتاب حجج الکرامہ میں گواہی دیتے ہیں کہ اسلام میں جس قدر اہل کشف گذرے ہیں کوئی ان میں سے مسیح موعود کا زمانہ مقرر کرنے میں چودھویں صدی کے سر سے آگے نہیں گذرا۔ اب اس جگہ طبعا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مسیح موعود کو اس اُمت میں سے پیدا کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں وعدہ فرمایا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے زمانہ نبوت کے اول اور آخر کے لحاظ سے حضرت موسی سے مشابہ ہوں گے۔ پس وہ مشابہت ایک تو اول زمانہ میں تھی جو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ تھا اور ایک آخری زمانہ میں ۔ سو اول مشابہت یہ ثابت ہوئی کہ جس طرح حضرت (۱۳) موسیٰ علیہ السلام کو خدا نے آخر کار فرعون اور اس کے لشکر پر فتح دی تھی اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو آخر کار ابو جہل پر جو اس زمانہ کا فرعون تھا اور اس کے لشکر پر فتح دی اور اُن سب کو