اسلام (لیکچر سیالکوٹ)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 210 of 597

اسلام (لیکچر سیالکوٹ) — Page 210

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۱۰ لیکچر سیالکوٹ پہلی تمام کتابیں بھی با تفاق یہی کہتی ہیں اور آیت إِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَالْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ سے بھی یہی نکلتا ہے اور تمام نبی واضح طور پر بھی خبر دیتے آئے ہیں اور جیسا کہ میں بھی بیان کر چکا ہوں سورۃ والعصر کے اعداد سے بھی یہی صاف معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آدم سے الف پنجم میں ظاہر ہوئے تھے اور اس حساب سے یہ زمانہ جس میں ہم ہیں ہزار ہفتم ہے جس بات کو خدا نے اپنی وحی سے ہم پر ظاہر کیا اس سے ہم انکار نہیں کر سکتے اور نہ ہم کوئی وجہ دیکھتے ہیں کہ خدا کے پاک نبیوں کے متفق علیہ کلمہ سے انکار کریں۔ پھر جبکہ اس قدر ثبوت موجود ہے اور بلاشبہ احادیث اور قرآن شریف کے رو سے یہ آخری زمانہ ہے۔ پھر آخری ہزار ہونے میں کیا شک رہا اور آخری ہزار کے سر پر مسیح موعود کا آنا ضروری ہے۔ اور یہ جو کہا گیا کہ قیامت کی گھڑی کا کسی کوعلم نہیں ۔ اس سے یہ مطلب نہیں کہ کسی وجہ سے بھی علم نہیں۔ اگر یہی بات ہے تو پھر آثار قیامت جو قرآن شریف اور حدیث صحیح میں کہے گئے ہیں وہ بھی قابل قبول نہیں ہوں گے کیونکہ ان کے ذریعہ سے بھی قرب قیامت کا ایک علم حاصل ہوتا ہے۔ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں لکھا تھا کہ آخری زمانہ میں زمین پر بکثرت نہریں جاری ہوں گی۔ کتابیں بہت شائع ہوں گی جن میں اخبار بھی شامل ہیں اور اونٹ بے کار ہو جائیں گے۔ سو ہم دیکھتے ہیں کہ یہ سب باتیں ہمارے زمانہ میں پوری ہو گئیں اور اونٹوں کی جگہ ریل کے ذریعہ سے تجارت شروع ہوگئی ۔ سو ہم نے سمجھ لیا کہ قیامت قریب ہے اور خود مدت ہوئی کہ خدا نے آیت اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ ل اور دوسری آیتوں میں قرب قیامت کی ہمیں خبر دے رکھی ہے۔ سو شریعت کا یہ مطلب نہیں کہ قیامت کا وقوع ہر ایک پہلو سے پوشیدہ ہے بلکہ تمام نبی آخری زمانہ کی علامتیں لکھتے آئے ہیں اور انجیل میں بھی لکھی ہیں ۔ پس مطلب یہ ہے کہ اس خاص گھڑی کی کسی کو خبر نہیں۔ خدا قادر 10 ہے کہ ہزار سال گذرنے کے بعد چند صدیاں اور بھی زیادہ کر دے کیونکہ کسر شمار میں نہیں آتی۔ الحج : ۴۸ - القمر :٢