اِعجاز المسیح — Page xxvi
ہوئی۔بلکہ نبوت کی مسلمانوں میں رائج تعریف کے پیش نظر ۱۹۰۱ء سے پہلے آپ نبی کے لفظ کو ظاہر سے پھیر کر بمعنی محدّث لیتے تھے لیکن ۱۹۰۱ء کے بعد اﷲ تعالیٰ نے آپ پر جو نبوت کی حقیقت کا انکشاف کیا اسی پہلی چیز کا نام بحکم الٰہی نبوت رکھا اور اس نئی تعریف کے ماتحت اپنے آپ کو نبی قرار دیا۔دافع البلاء و معیار اھل الاصطفاء یہ رسالہ آپ نے اپریل ۱۹۰۲ء میں شائع فرمایاجب کہ پنجاب میں طاعون کا بہت زور تھا اس رسالہ میں طاعون سے متعلق آپ نے ان الہامات کا ذکر فرمایا ہے جن میں طاعون کی وباء کے پھیلنے کے متعلق پیشگوئی تھی اور یہ بھی بتایا گیا تھا کہ طاعون دنیا میں اس لئے آئی ہے کہ خدا کے مسیح کا نہ صرف انکار کیا گیا بلکہ اس کو دُکھ دیا گیا۔اس کے قتل کرنے کے منصوبے کئے گئے۔اس کا نام کافر اور دجّال رکھا گیا۔اور پہلی کتابوں میں پیشگوئی پائی جاتی تھی کہ مسیح موعود کے ظہور کے وقت سخت طاعون پڑے گی۔اور فرمایا کہ اس کا یقینی علاج تو یہی ہے کہ اس مسیح کو سچے دل اور اخلاص سے قبول کیاجائے اور اپنی زندگیوں میں ایک روحانی تبدیلی پیدا کی جائے نیز وحئ الٰہی کی بنا ء پر آپ نے یہ اعلان فرمایا:۔’’کہ خدا تعالیٰ بہرحال جب تک کہ طاعون دنیا میں رہے گو ستّر۷۰ برس تک رہے قادیان کو اس کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا۔‘‘ (دافع البلاء، روحانی خزائن جلد ۱۸صفحہ ۲۳۰ ) اور فرمایا:۔’’میرا یہی نشان ہے کہ ہر ایک مخالف خواہ وہ امروہہ میں رہتا ہے اور خواہ امرتسر میں اور خواہ دہلی میں اور خواہ کلکتہ میں اور خواہ لاہور میں اور خواہ گولڑہ میں اور خواہ بٹالہ میں اگر وہ قسم کھا کر کہے گا کہ اس کا فلاں مقام طاعون سے پاک رہے گا تو ضرور وہ مقام طاعون میں گرفتار ہو جائے گا کیونکہ اس نے خدا تعالیٰ کے مقابل پر گستاخی کی۔‘‘ (دافع البلاء۔روحانی خزائن جلد۱۸ صفحہ ۲۳۸ ) لیکن کسی مخالف کو ایسا اعلان کرنے کی جرأت نہ ہوئی۔اور طاعون کی وباء پہلی کتب کی پیشگوئیوں کے