اِعجاز المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxv of 822

اِعجاز المسیح — Page xxv

رسالہ میں تحریر فرمایا:۔’’اگر خدا تعالیٰ سے غیب کی خبریں پانے والا نبی کا نام نہیں رکھتا تو پھر بتلاؤ کس نام سے اس کو پکارا جائے۔اگر کہو کہ اس کا نام محدّث رکھنا چاہئے تو مَیں کہتا ہوں کہ تحدیث کے معنے کسی لُغت کی کتاب میں اظہارِ غیب نہیں ہے مگر نبوت کے معنی اظہار امر غیب ہے۔‘‘ (ایک غلطی کا ازالہ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۲۰۹) اور حقیقۃ الوحی کے حوالہ میں ’’اوائل‘‘ سے مراد ’’تریاق القلوب‘‘ تک کا زمانہ ہے۔گویا اواخر ۱۸۸۹ء سے لے کر ۱۹۰۱ء تک کے درمیانی عرصہ میں کسی وقت اﷲ تعالیٰ کی طرف سے یہ حقیقت آپ پرمنکشف ہوئی جس کا اعلان سب سے پہلے آپ نے اس رسالہ میں کیا۔اور جیسے حقیقۃ الوحی میں فرمایا کہ صریح طور پر نبی کا خطاب دیا گیااسی طرح اس رسالہ میں فرمایا:۔’’اِس وقت تو پہلے زمانہ کی نسبت بھی بہت تصریح اور توضیح سے یہ الفاظ (نبی اور رسول کے۔۔۔ناقل) موجود ہیں۔‘‘ (ایک غلطی کا ازالہ۔روحانی خزائن جلد۱۸ صفحہ۲۰۶) اس رسالہ کی اشاعت کے بعد آپ نے اپنی متعدد کتب میں نبوت کی وہی تعریف بیان فرمائی جس کا اعلان اس رسالہ میں کیا گیا تھا۔چنانچہ تتمہ حقیقۃ الوحی میں آپ فرماتے ہیں:۔’’اے نادانو! میری مراد نبوت سے یہ نہیں ہے کہ مَیں نعوذ باﷲ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے مقابل پر کھڑا ہو کر نبوت کا دعویٰ کرتا ہوںیا کوئی نئی شریعت لایا ہوں۔صرف مُراد میری نبوت سے کثرت مکالمت و مخاطبت الٰہیہ ہے جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی اتباع سے حاصل ہے۔سو مکالمہ و مخاطبہ کے آپ لوگ بھی قائل ہیں۔پس یہ صرف لفظی نزاع ہوئی۔یعنی آپ لوگ جس امر کا نام مکالمہ و مخاطبہ رکھتے ہیں مَیں اس کی کثرت کا نام بموجب حُکمِ الٰہی نبوت رکھتا ہوں۔ولکل ان یصطلح۔اور مَیں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اسی نے مجھے بھیجا ہے اور اُسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اُسی نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے۔‘‘ (تتمہ حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ۵۰۳) پس آپ کے دعویٰ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی اور نہ ہی آپ کا کوئی الہام یا آپ کی کوئی تحریر منسوخ