اِعجاز احمدی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 194 of 566

اِعجاز احمدی — Page 194

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۱۹۴ اعجاز احمدی ضمیمه نزول المسیح تَنَاهَى لِسَانُ النَّاسِ عَنْ دَابِ فُحْشِهِمُ وَ مِقْوَلُكُمْ يَجْرِى وَلَا يَتَحَسَّرُ تمام لوگوں نے بد زبانی کی عادت چھوڑ دی۔ اور تمہاری زبان اب تک لعنت بازی پر جاری ہو رہی ہے اور نہیں تھکتی أَشَعُتُمْ طَرِيقَ اللَّعْنِ فِي اَهْلِ سُنَّةٍ فَاجْرَوُا طَرِيقَتَكُمْ فَإِنْ شِئْتُمُ انْظُرُوا تم نے لعنت بازی کے طریقوں کو اہل سنت والجماعت میں شائع کر دیا۔ پس انہوں نے بھی یہ طریق جاری کر دیا ۔ اگر چاہو تو دیکھ لو فَيَا لَيْتَ مِتُّمْ قَبْلَ تِلْكَ الطَّرَائِقِ وَلَمْ يَكُ دِينُ اللَّهِ مِنْكُمْ يُخَسَّرُ پس کاش ! تم ان تمام طریقوں سے پہلے ہی مر جاتے ۔ اور خدا کا دین تمہارے سبب سے تباہ نہ ہوتا جَعَلْتُمْ حُسَيْنًا اَفْضَلَ الرُّسُلِ كُلِّهِمْ وَجُزُتُمْ حُدُودَ الصِّدْقِ وَاللَّهُ يَنظُرُ ☆ تم نے حسین کو تمام انبیاء سے افضل ٹھہرا دیا اور سچائی کی حدوں سے آگے گزر گئے (اور اللہ دیکھ رہا ہے ) وَعِنْدَ النَّوَائِبِ وَالاَذِى تَذْكُرُونَهُ كَأَنَّ حُسَيْنًا رَبُّكُمْ يَا مُزَوِّرُ اور مصیبتوں اور دکھوں کے وقت تم اسی کو یاد کرتے ہو گویا حسین تمہارا رب ہے۔اے بد بخت جھوٹ بولنے والے! وَخَرَّتْ لَهُ أَحْبَارُكُمْ مِثْلَ سَاجِدٍ فَمَا جُرُمُ قَوْمٍ أَشْرَكُوا أَوْ تَنَصَّرُوا اور تمہارے علماء سجدہ کرنے والوں کی طرح اس کے آگے گر گئے ۔ پس اب مشرکوں یا نصرانیوں کا کیا گناہ ہے نَسِيتُمْ جَلَالَ اللَّهِ وَالْمَجْدَ وَالْعُلى وَمَا وِرُدُكُمْ إِلَّا حُسَيْنٌ أَتُنْكِرُ تم نم نے خدا کے جلال اور مسجد کو بھلا دیا۔ اور تمہارا ورد صرف حسین ہے کیا تو انکار کرتا ہے؟ فَهَذَا عَلَى الْإِسْلَامِ إِحْدَى الْمَصَائِبِ لَدَى نَفَحَاتِ الْمِسْكِ قَذْرٌ مُّقَنْطَرُ پس یہ اسلام پر ایک مصیبت ہے ۔ کستوری کی خوشبو کے پاس گوہ کا ڈھیر ہے وَإِنْ كَانَ هَذَا الشَّرْكُ فِي الدِّينِ جَائِزَا فَبِاللَّغْوِ رُسُلُ اللَّهِ فِي النَّاسِ بُعْثِرُوا اور اگر شرک دین میں جائز ہے۔ پس خدا کے پیغمبر بیہودہ طور پر لوگوں میں بھیجے گئے وَأَيُّ صَلَاحٍ سَاقَ جُنْدَ نَبِيِّنَا إِلَى حَرْبِ حِزْبِ الْمُشْرِكِينَ فَدَ مَّرُوا اور کیا غرض تھی کہ ہمارے نبی کا لشکر مقابلہ کے لئے چلا گیا۔ مشرکوں کی لڑائی کے مقابل پر پس ان کو ہلاک کیا حاشیہ۔ اس شعر کا یہ مطلب ہے کہ جبکہ شرک جائز تھا اور کافروں نے صرف اپنے ان معبودوں کی حمایت میں جو حسین کی طرح غیر اللہ تھے مسلمانوں کو قتل کرنا شروع کر دیا تھا جس پر آخر مسلمانوں کو اجازت ہوئی کہ اب تم بھی ان مشرکوں کا وَاللهُ يَنظُرُ کا ترجمہ ایڈیشن اول میں لکھنے سے رہ گیا ہے ( ناشر )