اِعجاز احمدی — Page 179
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۱۷۹ اعجاز احمدی ضمیمه نزول المسیح وَلِلْغَى آثَارٌ وَّ لِلرُّشْدِ مِثْلُهَا فَقُومُوا لِتَفْتِيشِ الْعَلَامَاتِ وَانْظُرُوا (1) اور گمراہی کے لئے نشان ہیں اور ایسا ہی رُشد کے لئے بھی۔ پس تم علامات کی تفتیش کرو اور خوب دیکھو ارَى الظُّلْمَ يَبْقَى فِي الْخَرَاطِيمِ وَسُمُهُ وَيُنْصَرُ مَظْلُومٌ ضَعِيفٌ مُّخَسَّرُ | میں دیکھتا ہوں کہ انسان کی ناک میں ظلم کی علامتیں باقی رہ جاتی ہیں اور مظلوم کو آخر مدددی جاتی ہے جو ضعف اور نقصان والا ہوتا ہے وَ قَدْ اَعْرَضُوا عَنْ كُلِّ خَيْرٍ بِغَيْظِهِمْ كَانِّي أَرَاهُمْ مِّثْلَ نَارِ تُسَعَرُ انہوں نے ہر ایک نیکی سے غصہ سے منہ پھیر لیا جو میں نے پیش کی گویا میں ایک بھڑکتی ہوئی آگ کی طرح ان کو دیکھ رہا ہوں وَيُنْصَرُ مَظْلُومٌ بِآخِرِ اَمْرِهِ وَلَا سِيَّمَا عَبْدٌ مِّنَ اللهِ مُنْذِرُ اور مظلوم آخر کار مدد دیا جاتا ہے۔ بالخصوص وہ بندہ جو خدا کی طرف سے ہے إِذَا مَا بَكَى الْمَعْصُومُ تَبْكِى الْمَلَائِكَ فَكَمْ مِّنْ بِلادٍ تُهلَكَنَّ وَ تُجْذَرُ جب معصوم روتا ہے تو اس کے ساتھ فرشتے روتے ہیں۔ پس بہت بستیاں ہلاک کی جاتی ہیں اور اجاڑی جاتی ہیں إِذَا ذَرَفَتْ عَيْنَا تَقِيِّ بِغُمَّةٍ يُفَرَّجُ كَرُبٌ مَّسَّهُ أَوْ يُبَشِّرُ جب ایک پر ہیز گار کی آنکھیں آنسو جاری کرتی ہیں ایک غم کی وجہ سے ۔ پس وہ بے قراری اُس سے دور کی جاتی ہے یا بشارت دی جاتی ہے عَلَى الْأَرْضِ قَوْمٌ كَالسُّيُوفِ دُعَانُهُمُ فَمَنْ مَّسَّ هَذَا السَّيْف بالشَّرِّ يُبْتَرُ زمین پر ایک قوم ہے کہ تلواروں کی طرح ان کی دعا ہے۔ پس جو شخص اُس تلوار کو چھو جاتا ہے وہ کاٹا جاتا ہے تَرَى كَيْفَ نَرْقَى وَالْحَوَادِتْ جُمَّةٌ وَيُهْلَكُ مَنْ يَبْغِى هَلَاكِي وَ يَمْكُرُ تو دیکھا ہے کہ ہم کو کر ترقی کر رہے ہیں حالانکہ حوادث چاروں طرف سے جمع ہیں اور جوشخص میری ہلاکت چاہتا ہے اور کم کرتا ہے وہلاک کیا جاتا ہے لَنَا كُلَّ آن مِّنْ مُّعِينٍ حِمَايَةٌ نُغَادِرُ صَرْعَى مَاكِرِينَ وَ نَظْفَرُ ہمارے لئے ایک مددگار کی طرف سے حمایت ہے۔ ہم مکر کرنے والوں کو گرا دیتے ہیں اور فتح پاتے ہیں اَيَا شَاتِمًا لَّا شَاتِمَ الْيَوْمَ مِثْلَكُمُ وَمَا إِنْ أَرَى فِي كَفَّكُمُ مَا يُبْطِرُ علی حائری شیعہ کے حملہ کے جواب میں اے گالی دینے والے آج تیرے جیساد شام دہندہ کوئی نہیں۔ اور میں تمہارے ہاتھ میں وہ چیز نہیں دیکھا کہ تمہیں اس ناز پر آمادہ کرتی ہے تَسُبُّ وَمَا أَدْرِى عَلَى مَاتَسُبُّنِي أَآذَاكَ قَوْلِى فِى حُسَيْنِ فَتَوْغَرُ ۔ تو مجھے گالی دیتا ہےاور میں نہیں جانتا کہ کیوں مجھے گالی دیتا ہے۔ کیا امام حسین کے سبب سے تجھے رنج پہنچا پس تو برا فروختہ ہوا