اِعجاز احمدی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 135 of 566

اِعجاز احمدی — Page 135

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۱۳۵ اعجاز احمدی نعیمه نزول المسیح مگر چونکہ مقرب اور خدا کے پیارے تھے اس لئے وہ شیطانی وسو سے قائم نہ رہ سکے اور جلد آپ نے سمجھ لیا کہ میری آسمان کی بادشاہت ہے نہ زمین کی ۔ غرض حضرت مسیح کا یہ اجتہاد غلط نکلا۔ اصل وحی صحیح ہوگی مگر سمجھنے میں غلطی کھائی ۔ افسوس ہے کہ جس قدر حضرت عیسی علیہ السلام کے اجتہادات میں غلطیاں ہیں اُس کی نظیر کسی نبی میں بھی پائی نہیں جاتی۔ شاید خدائی کے لئے یہ بھی ایک شرط ہوگی مگر کیا ہم کہ سکتے ہیں کہ ان کے بہت سے غلط اجتہادوں اور غلط پیشگوئیوں کی وجہ سے اُن کی پیغمبری مشتبہ ہوگئی ہے۔ ہر گز نہیں۔ اصل بات یہ ۲۶ ہے کہ جس یقین کو نبی کے دل میں اُس کی نبوت کے بارے میں بٹھایا جاتا ہے وہ دلائل تو آفتاب کی طرح چمک اُٹھتے ہیں اور اس قدر تواتر سے جمع ہوتے ہیں کہ وہ امر بد یہی ہو جاتا ہے۔ اور پھر بعض دوسری جزئیات میں اگر اجتہاد کی غلطی ہو بھی تو وہ اس یقین کو مضر نہیں ہوتی جیسا کہ جو چیزیں انسان کے نزدیک لائی جائیں اور آنکھوں کے قریب کی جائیں تو انسان کی آنکھ اُن کے پہچاننے میں غلطی نہیں کھاتی اور قطعا حکم دیتی ہے کہ یہ فلاں چیز ہے اور اس مقدار کی ہے اور وہ حکم صحیح ہوتا ہے اور ایسی رویت کی شہادت کو عدالتیں قبول کرتی ہیں۔ لیکن اگر کوئی چیز قریب نہ لا ئی جائے اور مثلا نصف میل یا پاؤ میں سے کسی انسان کو پوچھا جائے کہ وہ سفید شے کیا چیز ہے تو ممکن ہے کہ ایک سفید کپڑے والے انسان کو ایک سفید گھوڑا خیال کرے یا ایک سفید گھوڑے کو انسان سمجھ لے۔ پس ایسا ہی نبیوں اور رسولوں کو اُن کے دعوی کے متعلق اور اُن کی تعلیموں کے متعلق بہت نزدیک سے دکھایا جاتا ہے اور اس میں اس قدر تواتر ہوتا ہے جس میں کچھ شک باقی نہیں رہتا لیکن بعض جزوی امور جو اہم مقاصد میں سے نہیں ہوتے اُن کو نظر کشفی دور سے دیکھتی ہے اور اُن میں کچھ تو اتر نہیں ہوتا۔ اس لئے کبھی اُن کی تشخیص میں دھوکا بھی کھا لیتی ہے۔ پس حضرت عیسی علیہ السلام نے جو اپنی پیشگوئیوں میں دھو کے کھائے وہ اسی رنگ میں کھائے تھے مگر نبوت کے دعوے میں انہوں نے دھوکا نہیں کھایا