اِعجاز احمدی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 126 of 566

اِعجاز احمدی — Page 126

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۱۲۶ اعجاز احمدی نعیمه نزول المسیح عیسیٰ علیہ السلام کی وفات آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنى لے میں صاف طور پر بیان کر دی اور ۱۸ تصریح حضرت عیسی کا یہ عذر پیش کر دیا کہ میری وفات کے بعد یہ لوگ بگڑے ہیں ۔ پس خدا سمجھا رہا ہے کہ اگر حضرت عیسی فوت نہیں ہوئے تو عیسائی بھی اب تک نہیں بگڑے کیونکہ عیسائیوں کا راہ راست پر رہنا صرف اُن کی حیات تک ہی وابستہ رکھا گیا تھا۔ اور عیسائیوں کی ضلالت کی علامت حضرت عیسی کی وفات ٹھیرائی گئی تھی ۔ اب کہو اس صورت میں آپ کے نزدیک خدا کیوں کر سچا ٹھہر سکتا ہے جس کا بیان باور نہیں کیا گیا۔ اور ایسا ہی آیت مَا مُحَمَّدُ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ میں سب نبیوں کی وفات ایک مشترک لفظ میں جو خَلَتُ ہے خدا نے ظاہر کی تھی اور حضرت عیسی کے لئے کوئی خاص لفظ استعمال نہیں فرمایا تھا۔ یہ بھی نعوذ باللہ آپ لوگوں کے نزدیک خدا کا ایک جھوٹ ہے ۔ یہ وہی آیت ہے جس کے پڑھنے سے حضرت ابو بکر نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ثابت کی تھی۔ ابوبکر کی بھی یہ منطق خوب تھی کہ با وجود یکه عیسی آسمان پر زنده بیٹھا ہے پھر وہ لوگوں کے سامنے یہ آیت پڑھتا ہے یہ کس قسم کی تسلی دیتا ہے۔ کیا اس کو معلوم نہیں که عیسی تو زندہ آسمان پر بیٹھا ہے اور پھر دوبارہ آئے گا اور چالیس برس رہے گا۔ عیسی کی وہ عمر اور افضل الرسل کی یہ عمر تِلْكَ إِذَا قِسْمَةٌ ضِيْزُى اور صحابہ بھی خوب سمجھ کے آدمی تھے جو اس آیت کے سننے سے ساکت ہو گئے اور کسی نے ابو بکر کو جواب نہ دیا کہ حضرت آپ یہ کیسی آیت پڑھ رہے ہیں جو اور بھی ہمیں حسرت دلاتی ہے عیسی تو آسمان پر زندہ اور پھر آنے والا اور ہمارا پیارا نبی ہمیشہ کے لئے ہم سے جدا ۔ اگر عیسی اس قانون قدرت سے باہر اور ہزار ہا برس کی عمر پانے والا اور پھر آنے والا ہے تو ہمارے نبی کو یہ نعمت کیوں عطا نہ ہوئی۔ اور سچ تو یہ ہے کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ اور تمام صحابہ نے جو اُس وقت تمام حاضر تھے اُن میں سے ایک بھی غائب نہ تھا۔ اس آیت کے یہی معنے سمجھے تھے کہ تمام انبیاء فوت ہو چکے ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ بعض ایک دو کم سمجھ صحابہ کو ا المائدة : ١١٨ آل عمران : ۱۴۵ النجم : ٢٣