اِعجاز احمدی — Page 110
روحانی خزائن جلد ۱۹ 11۔ اعجاز احمدی نعیمه نزول المسیح سے پوری ہوئی یہاں تک کہ فتح علی شاہ ڈپٹی کلکٹر وغیرہ معزز لوگوں نے جو چار ہزار کے قریب تھے ایک محضر نامہ تیار کر کے لکھ دیا کہ کمال صفائی سے یہ پیشگوئی پوری ہوگئی حالانکہ یہ لوگ مخالف جماعت میں سے تھے۔ مگر پھر بھی یہ نا خدا ترس نام کے مولوی مانتے نہیں۔ انہیں کے معزز بھائیوں کے ہاتھ کی لکھی ہوئی شہادتیں موجود ہیں بلکہ اس محضر نامہ میں بہت سے ہندو بھی ہیں مگر تا ہم تعصب ایک ایسی چیز ہے کہ انسانوں کو اندھا کر دیتی ہے۔ یہ پیشگوئیاں ایسی ہیں کہ ایک راستباز کے ان کو سن کر آنسو جاری ہو جائیں گے ۔ مگر پھر بھی یہ لوگ کہتے ہیں کہ کوئی پیشگوئی پوری نہیں ہوئی۔ یہ خیال نہیں کرتے کہ آخر ہم نے بھی ایک دن مرنا ہے۔ وہ نشان جو ان کو دکھلائے گئے اگر نوح کی قوم کو دکھلائے جاتے تو وہ غرق نہ ہوتی ۔ اور اگر لوط کی قوم ان سے اطلاع پاتی تو ان پر پتھر نہ برستے مگر یہ لوگ سورج کو دیکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ رات ہے یہ تو یہود سے بھی بڑھ گئے ۔ خدا کے نشانوں کی تکذیب سہل نہیں اور کسی زمانہ میں اس کا انجام اچھا نہیں ہوا۔ تو اب کیا اچھا ہو جائے گا مگر اس زمانہ میں دہریت پھیل گئی اور دل سخت ہو گئے اور نہیں ڈرتے ۔ میں ان لوگوں کو کس سے تشبیہ دوں ۔ یہ لوگ اُس اندھے سے مشابہ ہیں جو آفتاب کے وجود سے انکار کرتا ہے اور اپنے اندھا پن سے متنبہ نہیں ہوتا۔ یہ لوگ اُن یہودیوں اور عیسائیوں کی طرح ہیں جو صد ہا خدا کی تائیدیں اور معجزات جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ظہور میں آئے نہیں دیکھتے اور اُحد کی لڑائی اور حدیبیہ کے قصہ کو پیش کرتے ہیں اور حضرت عیسی کی نسبت بھی یہودیوں کا یہی حال ہے۔ حال میں ایک یہودی کی تالیف شائع ہوئی ہے جو میرے پاس اس وقت موجود ہے گویا وہ محمد حسین یا ثناء اللہ کی تالیف ہے۔ وہ اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ اس شخص یعنی عیسی سے ایک معجزہ بھی ظہور میں نہیں آیا اور نہ کوئی پیشگوئی اس کی بچی نکلی۔ وہ کہتا تھا کہ داؤد کا تخت مجھے ملے گا۔ کہاں ملا ۔ وہ کہتا تھا کہ بارہ حواری بہشت میں بارہ تخت پائیں گے کہاں بارہ کو وہ تخت ملے ۔ یہودا اسکر یوطی تمیں روپیہ لے کر اس سے برگشتہ ہو گیا اور حواریوں میں سے کاٹا گیا۔ اور پطرس نے تین مرتبہ اُس پر لعنت بھیجی کیا وہ تخت کے لائق رہا۔ اور نیز کہتا تھا کہ اس زمانہ کے لوگ ہنوز نہیں مریں گے کہ