اِعجاز احمدی — Page 107
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۱۰۷ اعجاز احمدی ضمیمه نزول المسیح بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ ضمیمه کتاب نزول المسیح مرقومه ۶ شعبان ۳۲۰ اه روز شنبه مطابق ۱۸ نومبر ۱۹۰۲ء جس کے ساتھ دس ہزار روپیہ کے انعام کا اشتہار ہے رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنْتَ خَيْرُ الْفَتِحِينَ لَ اے ہمارے خدا ہم میں اور ہماری قوم میں سچا سچا فیصلہ کر اور تو ہی ہے جو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔ ايها الناظِرُون ارشد کم اللہ آپ صاحبوں پر واضح ہو کہ اس مضمون کے لکھنے کی اس لئے ضرورت پیش آئی کہ موضع مد ضلع امرتسر میں باصرار منشی محمد یوسف صاحب کے میرے دو مخلص دوست ایک مباحثہ میں گئے ۔ ہماری طرف سے مولوی محمد سرور صاحب مقرر ہوئے اور فریق ثانی نے مولوی ثناء اللہ صاحب کو امرتسر سے طلب کر لیا۔ اگر مولوی ثناء اللہ صاحب اس بحث میں خیانت اور جھوٹ سے کام نہ لیتے تو اس مضمون کے لکھنے کی ضرورت پیش نہ آتی لیکن چونکہ مولوی صاحب موصوف نے میری پیشگوئیوں کی تکذیب میں دروغگوئی کو اپنا ایک فرض سمجھ لیا اس لئے خدا نے مجھے اس مضمون کے لکھنے کی طرف توجہ دلائی ۔ تاسیہ روئے شود هر که در وغش باشد ۔ اے منصفین ہماری کتاب نزول المسیح کے پڑھنے والوں پر جس میں ڈیڑھ سونشان آسمانی صدہا گواہوں کی شہادت کے ساتھ لکھا گیا ہے یہ امر پوشیدہ نہیں کہ میری تائید میں خدا کے کامل اور پاک نشان بارش کی طرح برس رہے ہیں اور اگر ان پیشگوئیوں کے پورا ہونے کے تمام گواہ اکٹھے کئے جائیں تو میں خیال کرتا ہوں کہ وہ ساٹھ لاکھ سے بھی زیادہ ہوں گے مگر افسوس کہ تعصب اور دنیا پرستی ایک ایسا لعنتی روگ ہے جس سے انسان دیکھتے ہوئے نہیں دیکھتا اور سنتے چونکہ بٹالہ میں نے رنومبر ۱۹۰۲ء کو ایک گواہی کے لئے جانا پڑا اس لئے اس مضمون کے لکھنے میں تاخیر ہوئی۔ منہ الاعراف : ۹۰