حجة اللہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 237 of 494

حجة اللہ — Page 237

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۲۳۷ حجة الله وإن كنت قد سرتك عادة غلظة فمَزّق ثيابي، من ثيابك أمزق ۸۹ اور اگر تجھے درشت گوئی کی عادت اچھی معلوم ہوتی ہے پس تو میرے کپڑے پھاڑ اور میں تیرے پھاڑوں گا ألم تر شمل الدين كيف تفرّقت فليت كمثلك جاهل لم يُخلق کیا تو نے دیکھا نہیں کہ دین میں کس طرح تفرقہ پڑ گیا ہے پس کاش تیرے جیسا جاہل پیدا ہی نہ ہوتا وكذبت نبأ الله في خائر فنا وقلت بخبث أنّه لم يَصُدَقِ اور لیکھرام کی پیشگوئی کے بارے میں تو نے تکذیب کی اور خباثت کی رو سے کہا کہ وہ سچی نہیں ہوئی وتنحتَ بُهتانا على كَفَاسِقٍ وتُعزى إلى نفسى جرائم مُوبِقِ اور میرے پر تو ایک فاسق کی طرح بہتان باندھ رہا ہے اور لیکھر ام کے ہلاک کر نیوالے کا جرم میری طرف منسوب کرتا ہے أترمی بریا یا خبیث بذنبه ألا تتقى الديان يا أيها الشقى کیا تو اے خبیث قتل کر نیوالے کا گناہ مجھ پر لگاتا ہے اے شقی کیا تو خدا سے نہیں ڈرتا فطورًا تشير إلى خبثًا وتارةً تشير إلى حزبي بكذب تخلق پس کبھی تو تو میری طرف اشارہ کرتا ہے اور کبھی میری جماعت کی طرف اس جھوٹ سے جو بنارہا ہے وَ وَالله إن جماعتي في جموعكم كشجرة عَذْقِ عند نبت السَنَعْبَقِ اور بخدا میری جماعت تمہاری جماعتوں میں کھجور کے درخت کی طرح ہے جو ایک خراب بوٹی کے پاس ہو جس کا نام مستعبق ہے ومثل الذي يتبعنى بعد سلمه كمثل ذُرَى سِرّ مُرَبَّى بأودَق اور جو اسلام کے بعد میرا تا بعدار ہوا اس کی یہ مثال ہے جیسے کہ وادی کی زمین عمدہ کی چوٹی جس پر کالا بادل برس گیا ہے فلما عراه المَحْلُ رُبِّيَ ثانيًا فصار كمَوْلِي الْأَسِرَّةِ مُوَرِقِ پس جب خشک سال اس پر طاری ہوا تو پھر اس پر پانی برسا پس وہ اس عمدہ زمین کی طرح ہوگئے جس پر دوبارہ بار ہوتی ہےاور اپنی سبز تی باہر لے آتی ہے۔ أتنكر آى الله خُبُنًا وشِقُوةً وآيةَ مَيْت بالدم المندفق کیا تو خدا کے نشانوں کا انکار کرتا ہے اور اس مردہ کے نشان کو جس کے ساتھ خون ٹپکتا ہے أَذَلَّتُ لي الأعْنَاقُ من غير آية؟ أجاءتني العُلماء من غير مُقْلِق؟ کیا نشان کے بغیر ہی گردنیں میری طرف جھک گئیں کیا علما بغیر کسی محرک اور بے آرام کر نیوالے کے یونہی آگئے إلى الله نشكو من ظنون مُكذِّب وإنّ المكذب سوف يُخزى ويُسحق - ہم خدا کی طرف مکذبوں کی بدگمانیوں سے شکایت لیجاتے ہیں اور مکذب رسوا کیا جائے گا اور پیا جائے گا