حجة اللہ — Page 236
۲۳۶ حجة الله روحانی خزائن جلد ۱۲ ۸۸ لقد ذاق منا قومنا غير مرّةٍ حُسامًا جراحتُه إلى الفَرقِ ترتقى ہماری قوم نے بے شمار مرتبہ ہماری تلوار کا وہ مزہ چکھا ہے کہ جن کا زخم چوٹی تک پہنچتا ہے وإن كنتَ في شك فسَلُ شيخ فَجرةٍ غويًّا غبيًّا في البطالة مُوبَقِ پس اگر تجھے شک ہے تو شیخ بطالوی کو پوچھ لے جو غمی اور غومی اور بطالت میں ہلاک کیا گیا ہے لكل امرء عزم لأمر، وعزمه إهانة دين الله فاذهَبُ وحَقِّقِ ہر یک شخص کسی امر کے واسطہ ایک قصد رکھتا ہے اور قصد اس شخص کا اہانت دین کی ہے جا اور تحقیق کر لے ألا أيها الشيخ الشقيّ تَعمَّق وفكِّرُ كإنسان إلى ما تنهق شیخ شقی سوچ اور انسان کی طرح فکر کر اور گدھے کی طرح آواز نہ کر أكفّرت قومًا مسلمين خباثة؟ ظلمتك جهلا فاتَّقِ الله وارفق کیا تو نے مسلمان کو از روئے خیافت کے کافر ٹھہرایا تو نے جہالت سے اپنے پر ظلم کیا پس ڈر اور نرمی کر وتُقطع أيدى السارقين لدرنهم فقُل ما جزاء مكفّر ومفسقِ اور ایک درہم کیلئے چوروں کے ہاتھ کاٹے جاتے ہیں پس کہہ کہ کافر ٹھہرانے والے کی سزا کیا ہے صبرنا على طغواك فازددت شقوةً وخادعت أنعامًا بقول ملفّق ہم نے تیری زیادتی پر صبر کیا اور چارپایوں کو تو نے محض باتوں سے دھوکہ دیا وإن شئتَ بارِزُنى وإن شئت فاستَتِرُ فإني سأمحو كل ما كنتَ تنمق اگر چاہے تو مقابلہ کر اور اگر چاہے تو چُھپ جا پس میں ہر ایک جو تو نے لکھا تھا عنقریب محو کر دوں گا وجدتك من قوم لئام تأبّطوا شرورًا وسبوا الصالحين كحذلق میں نے تجھ کو اس قوم میں سے پایا ہے جنہوں نے شرارتوں کو بغل میں اور صلحاء کو گالیاں دیں جیسے در ونکو لاف زن دیتے ہیں سببت وأغريت اللئام خباثة على فآذوني ككلب يحرق تو نے گالیاں دیں اور بہت جاہلوں کو گالی کیلئے ترغیب دی پس انہوں نے مجھے کتے دانت پینے والے کی طرح تکلیف دی فأُقسم لو لا خشية الله والحيـا لأزمعتُ أَنْ أُفنيك سَبَّا وأَدهَقِ پس میں قسم کھاتا ہوں کہ اگر خدا کا خوف اور حیا نہ ہوتا تو میں قصد کرتا کہ گالیوں سے تجھے فنا کر دیتا وقد ضاقت الدنيا عليك كما ترى ودينك هذا فاتق الله وارفق اور دنیا تجھ پر تنگ ہو گئی جیسا کہ تو دیکھتا ہے اور دین تیرا یہ ہے پس خدا سے ڈر اور نرمی کر