حجة اللہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 234 of 494

حجة اللہ — Page 234

۲۳۴ روحانی خزائن جلد ۱۲ حجة الله ٨٦) فإن جنحوا للسلم فالسلم ديننا وإن نُدْعَ في الهيـجـاءِ لَـمُ نتأبَّـقِ پس اگر صلح کے لئے جھکیں تو صلح ہمارا دین ہے اور اگر ہم لڑائی میں بلائے جائیں تو ہم پوشیدہ نہیں أراهم كآرام وعِين بصورهم وإن القلوب كمثل حجرٍ مُدَمُلقِ میں ان کو بظاہر صورت ہرنیوں اور گا ؤ دشتی کی طرح دیکھتا ہوں اور دل ان کے پتھر کی طرح سخت ہیں وإن تبغـنـي فـي ندوة السلم تُلْفِنى وإن تَدْعُنـي فــي مـوطـن الحـرب تلتق اور اگر تو مجھے صلح کی مجلس میں بلائے گا تو مجھے وہاں پائے گا اور اگر تو مجھے جنگ کے میدان میں بلائے گا تو میں تجھے ملوں گا ونخضع للأعداء قبل خضوعهم ونرحل بعد الخصم من كلّ مازَقِ | اور ہم دشمنوں کے لئے جھکتے ہیں قبل اس کے جو وہ جھکیں اور ہم میدان سے جب تک دشمن کوچ نہ کرے کوچ نہیں کرتے فإن أسلموا خير لهم ولئن عصوا فنكلّمهم من بعده كالمشقق پس اگر اسلام لائے تو ان کے لئے بہتر ہے اور اگر نا فرمان ہوئے پس ہم بعد اس کےان کو ایسا مجروح کریں گے جیسا کہ کوئی پھاڑا جاتا ہے وقد جئتكم من نحو عشرين حجّةً ففكّر أهذا مدة المتخلق اور میں تمہارے پاس تخمیناً ہمیں برس سے آیا ہوں پس سوچ کہ کیا یہ دروغ گو مدت ہے عجبت عماءً أن أكون ابن مريم وإن شاء ربى كنتُ أعلى وأسبَقِ تو نے نا بینائی سے تعجب کیا کہ میں ابن مریم ہو جاؤں اور اگر خدا چاہے تو میں اس مرتبہ سے بھی برتر ہو جاؤں وتُذكَّرُ لَعْنَ الخَلق في أمر " آتم" وقد لُعِنَ الأبرار قبلى فَحَقِّقِ اور آتھم کے مقدمہ میں تو لوگوں کی لعنت کا ذکر کرتا ہے حالانکہ ہمیشہ پہلے اس سے نیکوں پر لعنت بھیجی گئی تو تحقیق کرلے وإن الورى عُمى يسبون عُجُلةً فليس بشيء لعنهم يا ابن أحمق اور لوگ اندھے ہیں جلدی سے گالیاں دینی شروع کر دیتے ہیں پس ان کا لعنت کرنا اے ابن احمق کچھ چیز نہیں ہے الله يُرجع لعن كُلّ مزوّرٍ إليه فيمسى بالملاعين مُلحَقِ بلکہ خدا تعالیٰ ہر ایک جھوٹے کی لعنت ایسے پر ڈالتا ہے پس وہ ایسی حالت میں شام کرتا ہے کہ ملعون ہوتا ہے فدع عنك ذكر اللعن يا صيد لعنة | ألم تر ما لاقيت بعد التَلَقُلُقِ اے لعنت کے شکار لعنت کا ذکر چھوڑ دے کیا تو نے نہیں دیکھا کہ بکو اس کے بعد تیرا کیا حال ہوا أتزعم يا مَن لَعَنَنى بالجفاء أن تخلّص منى بل تُدق وتُشحَقِ اے وہ شخص جو ظلم کے ساتھ مجھ پر لعنت کی کہ تو مجھے سے رہائی پا جائے گا بلکہ پیا جائے گا بل