حجة اللہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 226 of 494

حجة اللہ — Page 226

۲۲۶ روحانی خزائن جلد ۱۲ حجة الله ۷۸ ومـن عـجـب قد أخذ كل نصيبه وفى السمط كانت درره لم تُفرَّق | اور تعجب تو یہ ہے کہ ہر ایک نے اپنا حصہ لے لیا حالانکہ رشتہ کے موتی رشتہ میں موجودر ہے اور اس سے الگ نہ ہوئے إذا رُفِعَتْ أستارها فكأنّها عذارى أَرَيْنَ الوجه من تحت بُخْنُقِ اور جب ان کے اٹھائے گئے پس گویا وہ باکرہ عورتیں تھیں جنہوں نے برقع میں سے منہ نکالا پردے فظلّ العذارى ينتهبن بجلوة بعاع قلوب المبصرين بمأزق پس ان باکرہ عورتوں نے یہ شروع کیا کہ وہ عارفوں کے دلوں کے مال کولڑائی میں لوٹتی تھیں فشِبُرٌ من الإيوان لم يبقَ خاليًا لِمَا ملأ الإيوان عشاق منطقى پس میدان میں سے ایک بالشت جگہ خالی نہ رہی کیونکہ اس ایوان کو میرے سخن کے عاشقوں نے بھر دیا۔ وكان الأناس لميلهم نحو كلمتي بأقطاره القصوى كطيرٍ مُرَنَّقِ اور لوگ باعث اس کے کہ ان کو میرے کلام کی طرف میل تھا۔ اس ایوان کے کناروں میں ایسے تھے کہ جیسے ایک پرندہ ایک طرف پرواز کر کے جانا چاہے اور جان سکے وُقوفًا بهم بهم صحبی لخدمة دينهم يرون عجائب ربهم من تعمق اور ان کے پاس میرے دوست کھڑے تھے جو خدا تعالیٰ کے عجائب کام دیکھ رہے وكــم مــن عيــون الـخـلـق فاضت دموعها إذا ما رأوا آياتِ رَبِّ مُوفّق اور بہتوں کے آنسو جاری ہو گئے جبکہ انہوں نے خدا تعالیٰ کے نشان دیکھے وكانوا إذا سمعوا كلاما كلؤلؤ وكَلِما تُفرحهم کمشک مدقَّقِ اور لوگوں کی یہ حالت تھی کہ جس وقت وہ اس کلام کو ہر مثال کو سنتے تھے اور ان کلمات کو سنتے تھے جو مشک باریک کروہ کی طرح تھے يقولون كررها وأروِ قلوبَنا وهُنَّ علينا من عُذَيُقك وانتَقِ کہتے تھے دوبارہ پڑھ اور ہمارے دلوں کو سیراب کر اور اپنی کھجوروں کو ہمارے پر ہلا اور جھاڑ هنالك لاحث آية الحق كالضُّحى فهل عند أمر واضح من مُبَرِّقِ؟ اس جگہ دن کی طرح نشان خدا کا ظاہر ہو گیا پس کوئی ہے کہ ایک واضح امر کو آنکھ کھول کر دیکھے وإني سُقيتُ الماء ماء المعارفِ وأُعطيت حكما عافها قلب أحمق اور میں معارف کا پانی پلایا گیا ہوں اور وہ حکمتیں بھی مجھ عطاکی گئی ہیں جوصرف حق ان سے کراہت کرتا ہے یمانيّةٌ بيضاء دُرَرٌ كأنها جواهر سيف قد فداها لمُوبَق وہ یمنی حکمتیں موتیوں کی مانند ہیں گویا وہ تلوار کے جوہر ہیں جو کشتہ حسن کا خون بہا ہیں