حجة اللہ — Page 217
۲۱۷ روحانی خزائن جلد ۱۲ حجة الله يُخفون الحق ويــزيـنــون الباطل ويريدون أن يُطفئوا نور الله مفسدين۔ وقالوا (۶۹) حق کو چھپاتے ہیں اور باطل کو زینت دیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ خدا کے نور کو مفسدانہ باتوں سے بجھا دیں۔ اور کہا اهجروا هؤلاء ولا تلاقوهم مسلمين، ولا تصلوا على أمواتهم، ولا تتبعوا کہ ان لوگوں کو چھوڑ دو اور السلام علیکم کے ساتھ ان کو مت ملو اور ان کے مردوں پر نما ز مت پڑھو ۔ اور جنازاتهم، واقتلوهم إن قدرتم على قتلهم فى حين، واسرقوا أموالهم ، وانهبوا ان کے جنازوں کے ساتھ مت جاؤ اور اگر قدرت پاؤ تو ان کو قتل کر ڈالو ۔ اور ان کے مالوں کو چھاؤ رحالهم، وكـفـروهم وسبّوهم واشتموهم، ولا تذكروهم إلا مُحقرين۔ تبا لهم اور ان کے اسباب لوٹ لو اور ان کو گالیاں دو اور تحقیر کرتے ہوئے ان کا ذکر کرو ان کو ہلا کی كيف نحتوا مسائل من عند أنفسهم وما خافوا أحكم الحاكمين۔ أولئك عليهم ہو کیوں کر اپنے پاس سے مسئلے گھڑ لئے اور خدا تعالیٰ سے نہیں ڈرے ان پر خدا کی لعنت ہے اور لعنة الله والملائكة وأخيار الناس أجمعين، وأولئك هم شر البرية تحت السماء فرشتوں کی لعنت اور تمام نیک مردوں کی لعنت اور یہ لوگ آسمان کے نیچے بدترین خلائق ہیں اگر چہ ولو سمّوا أنفسهم عالمين۔ پنے تئیں مولوی کر کے پکاریں ۔ ثــم اعـلـم أني كتبت مكتوبي هذا في اللسان العربيّة، لأختبرك قبل أن أجيئك پر تھے معلوم ہوکہ میں نے یہ کتب اس لے لھا ہے تا کہ میں قبل اسکے کہ تیرے پاس آؤں تجھ کو آزمالوں للمناضلة، فإنى أظنّك غبيًّا ومن الجاهلين ۔ وما أريد أن يكون ذهابي إليك کیونکہ میں تجھے جاہلوں میں سے خیال کرتا ہوں اور میں نہیں چاہتا کہ میرا تیرے پاس آنا بے سود ہوا اور میں نہیں چاہتا کہ صلفة، وأكون كالذى يقصد عذرة، أو يأخذ في يده روثة، وما أريد أن أعطى میں ایسے شخص کی طرح ہو جاؤں جو پلیدی کا قصد کرتا ہے یا اپنے ہاتھ میں گو بر لیتا ہے اور میں نہیں چاہتا کہ ایک جاہل