حجة اللہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 210 of 494

حجة اللہ — Page 210

۲۱۰ روحانی خزائن جلد ۱۲ حجة الله الخزى خزى الخاتمة، ولا اعتبار لمبادئ الأمور، بل الحكم كله على آخر المصارعة | رسوائی وہ ہے جو انجام کار رسوائی ہو اور مبادی امور کا کچھ اعتبار نہیں بلکہ تمام حکم کشتی کے انجام پر ہے اور اس پر مدار عزت وعليه مدار العزة والذلّة، والفتح والهزيمة۔ وكلّ لعن لم يُبنَ على الواقعة الصحيحة، فهو | اور ذلت اور فتح اور شکست کا ہے اور ہر ایک لعنت جس کی واقعہ صحیحہ پر بنا نہیں وہ لعنت کرنے والے پر بلا اور دنیا اور بلاء على اللاعن وعذاب عليه في الدنيا والآخرة۔ والعاقلون يتدبرون الخاتمة والمآل آخرت میں اسپر عذاب ہے اور عقلمند لوگ خاتمہ اور انجام کو سوچتے ہیں اور نادان ابتدائے حالات سے خوش ہوتا ہے اور والسفيه يفرح بمبادى الأمر ويخدع الجُهّال ۔ فانظر الآن وتطلب این آتم عمک نادانوں کو دھوکہ دیتا ہے پس دیکھ اور ڈھونڈ کہ اس وقت آ تم تیرا چا کہاں ہے اور اگر نہیں مرا تو اے شریر کہاں گیا اور تو الكبير ؟ فـلـو لـم يمت فأين ذهب أيها الشرير؟ وتعلم أنّ الله ذكر شرطًا في إلهامه فرعاه، جانتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے ایک شرط اپنے الہام میں ذکر فرمائی پس اسکی رعایت کی ۔ پس اسلئے کہ آتھم ڈرا اس کی موت فأخر موت آتم الخوف عراه، وأكمل شرط نبئه ووقاه۔ ثم إذا تمرد أرداه، فتم ما قال میں تا خیر ڈال دی اور اپنی شرط کو پورا کیا پھر جب آتھم سرکش ہو گیا تو اسکو ہلاک کیا پس ہمارے رب کا فرمودہ پورا ہو گیا ربنا وفاح رياه، وأذل الله من كذب وأخزاه وحصحص الحق وبورك مغناه، فهذه اور اسکی خوشبو پھیل گئی اور خدا نے مکذب کو ذلیل کیا اور رسوا کیا اور حق ظاہر ہو گیا اور اس کا گھر مبارک کیا گیا۔ پس یہ تیری شقوتك إن كنت ما تراه ۔ بد قسمتی ہے اگر تو اس کو نہیں دیکھتا۔ یا قرد غزنی این آتـم سـل عشـیـرتـه هَل مَاتَ أَوْ تُلْفِيهِ حَيًّا بين احباب اے غزنی کے بندر آتھم کہاں ہے اسکے قبیلہ سے پوچھ کیا وہ مر گیا یا تو اسکو اسکے دوستوں میں زندہ پاتا ہے هـل تـم مـا قـلـنـا من الرحمن في الخصم هــل حـان او فِي حَـيْـــه شـك لمرتاب کیا اس دشمن میں ہمارے خدا کی بات پوری ہوگئی کیا وہ مر گیا یا اسکے مرنے میں شک کرنیوالے کو شک ہے