حجة اللہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 209 of 494

حجة اللہ — Page 209

۲۰۹ روحانی خزائن جلد ۱۲ حجة الله ولم تنته تنته فلعنة الله علیک یا عدوّ الإسلام إنك تريد عزة نفسك لا عزة خير الأنام ۔ (۶۱) اور نہ باز آئے پس تجھ پر لعنت اے دشمن اسلام تو اپنے نفس کی عزت چاہتا ہے نہ عزت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ۔مگر یہ وأما ما ذكرت أنّ النصارى ومثلك من اليهود ، لعنونى فى أمر آتم و حسبوني | جو تو نے ذکر کیا کہ نصاریٰ اور تیرے جیسے یہودیوں نے آتھم کے مقدمہ میں میرے پر لعنت کی اور مردود سمجھا كالمردود ، فاعلم أيها الممسوخ أن الحكم على الخواتيم، و كذالك جرت عادة پس اے مسخ شدہ سمجھ کہ حکم خاتمہ پر ہوتا ہے اور اسی طرح قدیم سے عادۃ اللہ جاری ہے بہ تحقیق اسکے اولیاء اور الله من القديم۔ إن أولياء الله وأصفياء ه يُؤذون في ابتداء الحالات، ويُلعنون برگزیدہ اوائل میں ستائے جاتے ہیں اور لعنت کئے جاتے ہیں اور کا فرٹھہرائے جاتے ہیں اور طرح طرح کی ويُكفَّرون ويُذكرون بأنواع التحقيرات ، ثم يقوم لهم ربهم في آخر الأمر ، ويبرئهم تحقیر کی جاتی ہے پھر ان کا رب ان کے لئے کھڑا ہو جاتا ہے اور ان کو مخالفین کے قول سے بری کر دیتا ہے اور اسی مما قالوا وينجيهم من ألسن الزمر، وكذالك يفعل بالمحبوبين۔ أما قرأت أن طرح وہ محبوبوں سے کرتا ہے۔ کیا تو نے نہیں پڑھا کہ انجام کار متقیوں کیلئے ہے ۔ پس ابتداء حالات سے خوشی کرنا العاقبة للمتقين؟ فالفرح بمبدأ الأمر من سِيرِ الفاسقين، واللعنة التي تُرسل إلى أهل بدکاروں کی سیرت میں سے ہے۔ اور وہ لعنت جو اہل فلاح اور سعادت کی طرف بھیجی جاتی ہے وہ لعنت الفلاح والسعادة، تُرَدَّ إلى اللاعنين، فتظهر فيهم آثار اللعنة۔ فالإبشار بمثل ذلك کر نیوالوں کی طرف واپس بھیجی جاتی ہے پس انمیں لعنت کی نشانیاں ظاہر ہو جاتی ہیں پس ایسی لعنتوں کے ساتھ اللــعــن نــدامة في الآخرة، وجعله أمارة الفتح من أمارات الحمق والسفاهة | خوش ہونا انجام کا رندامت ہے۔ اور اسکو فتح کی نشانیوں میں سے قرار دینا حمق اور سفاہت کی نشانیوں میں سے بل الفتح فتح يُديه الله لعباده في مآل الأمر والعاقبة، وكذلك ہے بلکہ طلح وہ فتح ہے جس کو خدا تعالیٰ اپنے بندوں کے لئے انجام اور خاتمہ امور پر ظاہر فرماتا ہے۔ اور اسی طرح