حجة اللہ — Page 200
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۲۰۰ حجة الله ۵۲ الطهارة، ويلعنون قومًا مُطهَّرين أيها الغوى إإنا لا نبغى المشيخة والعلاء ، ولا الأمارة | کو نہیں جانتے اور پاکوں پر لعنت بھیجتے ہیں۔ اے گمراہ ہم بزرگی اور برتری کونہیں چاہتے ۔ اور نہ ہم امیری اور بلندی کے والاستعلاء ، ولا نميل إلى الترفّه والاحتشام، ولا نطلب ما طاب وراق من الطعام، ونجد في خواہاں ہیں اور نہ ہم آسائش اور حشمت کی طرف جھکتے ہیں۔ اور نہ ہم اچھے کھانے مانگتے ہیں ۔ اور ہم اپنے دل میں محبت نفسنا أذواق حُبّ الرحمن، وسُكْرًا فاق صهباء الدنان، فلا نريد أرائِكَ منقوشة، ولا طنافس | رحمان کا ذوق پاتے ہیں۔ اور وہ نشہ جو شراب سے بڑھ کر ہے۔ سو ہم تخت منقش نہیں چاہتے اور نہ فرش جو بچھاتے ہیں مفروشة، إن نريد إلا وجه المحبوب، فالحَمدُ لِله على ما أوصلنا إلى المطلوب طلب کرتے ہیں ہم صرف روئے محبوب چاہتے ہیں۔ پس خدا کا شکر ہے جس نے ہمیں مطلوب تک پہنچایا اور ہم کو وہ وأرانا ما تغيب من أعين العالمين۔ دکھلایا جو دنیا کی آنکھوں سے پوشیدہ تھا۔ والعجب كلّ العجب أن عبد الحق الغزنوى يسبّني منذ خمس سنين، ولا اور تمام تر تعجب یہ ہے کہ عبد الحق غزنوی پانچ برس سے مجھے گالیاں نکال رہا ہے اور صلحاء کی طرح مباحثہ يُباحثنى كالصالحين المتقين، ولا يتقى الله بعد رؤية الآيات، ولا ينتهى عن الافتراءات نہیں کرتا اور نشانوں کے دیکھنے کے بعد خدا سے نہیں ڈرتا اور افتراؤں سے باز نہیں آتا ۔ اور ظالموں کے سلک مسلک الظالمين وإلى صبرتُ على مقالاته، وأعرضت عن جهلاته، طریق پر چلتا ہے اور میں نے اسکی باتوں پر صبر کیا اور اس کی جاہلیت سے اعراض کیا۔ یہاں تک کہ اس نے حتى غلا فى السب والشتم والتوهين، وسمّانى بأسماء الفاسقين، وأشاع اشتهارات | گالی اور توہین میں غلو کیا اور فاسقوں کے ناموں کے ساتھ مجھے پکارا اور اشتہار شائع کئے اور جاہلیت وأرى جهلات، وكان من الـمـعتـديـن۔ فرأينا أن نرد عليه وقومه ونكسر دکھلائی اور تجاوز کرنے والوں میں سے تھا۔ پس ہم نے مناسب دیکھا کہ اس کا اور اس کی قوم کا رد لکھیں اور