حجة اللہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 189 of 494

حجة اللہ — Page 189

۱۸۹ روحانی خزائن جلد ۱۲ حجة الله ودعت الداعين إلى المأدبة، ونادت كل من خاف نابَ النُوَب، وبشرت كل من أسلمه (1) اور دعا کر نیوالوں کو دعوت کی طرف بلایا تھا اور ہر ایک کو جو مصیبتوں کے دانتوں سے ڈرتا تھا بلایا اور ہر ایک کو جس کو نومیدی اليأس للكرب ۔ فـنهـضـتُ للدعاء نهوض البطل للبراز، وأصلتُ لسان التضرع كالعَضُب نے غموں کے حوالہ کر رکھا تھا بشارت دی۔ پس میں دعا کے واسطے ایسا اٹھا جیسا کہ ایک دلیر لڑنے کے واسطے اٹھتا ہے اور میں الجراز، حتى أحلَّنى التذلل مقعد العلاء ، وبُشْرتُ بالإجابة من حضرة الكبرياء فجلستُ نے تضرع کی زبان ایسی کھینچی جیسا کہ شمشیر بران۔ یہاں تک کہ فروتنی نے بلندی کی جگہ پر مجھ کو بٹھایا اور قبولیت دعا کی مجھ کو كرجل يرجع بردن ملآن، وقلب جدلان، وسجدت لربّ يُجيب دعاء المضطرين ۔وكان خوشخبری دی گئی۔ پس میں اس شخص کی طرح بیٹھا جو پر آستین کے ساتھ رجوع کرتا ہے اور دل خوش ہوتا ہے اور میں نے اس في هذه الآية إعلاء كلمة الملّة، وإتمام الحجّة على الكَفَرة الفَجَرة، ولكن الذين ملكوا پر وردگار کو سجدہ کیا جو بیقراروں کی دعا سنتا ہے۔ اور اس نشان میں کلمہ اسلام کی بلندی تھی ۔ اور کافروں پر حجت پوری ہوتی ہے أثاث عقل صغير، واتسموا بحمق شهير، ما آمنوا بهذه البينات، وتركوا النور واتبعوا سبل مگر وہ لوگ جو تھوڑی سی عقل کے مالک ہیں اور وصف حماقت میں مشہور ہیں وہ ان کھلے کھلے نشانوں پر ایمان نہیں لائے اور نور الظلمات، وجحدوا بآيات الله ظلمًا وزورا، وكانوا قومًا بُورًا، ومن المستكبرين۔ کو چھوڑ دیا اور ظلمات کی پیروی کی اور ظلم اور جھوٹ سے خدا کے نشانوں سے انکار کیا اور وہ ہلاک شدہ قوم تھی اور تکبر کر نیوالے ويقولون إنا نحن المسلمون وليس فيهم سير المسلمين ۔ في قلوبهم مرض فيزيد الله | تھے اور انہوں نے کہا کہ ہم مسلمان ہیں اور ان میں مسلمانوں کی خصلتیں نہیں ہیں ۔ ان کے دلوں میں مرض ہے پس خدا ان مرضهم ويمـوتـون مـحـجـوبين، إلا قليــل مـنـهـم فـإنهـم مــن الـــراجعين ۔ کے مرض کو زیادہ کرے گا اور حجاب کی حالت میں مریں گے مگر ان میں سے تھوڑے کہ وہ رجوع کریں گے ۔ اور یہ لوگ دنیا ويبــغــون عـــرض الــدنيـا وعرضها ولا يتقون الله ربّ العالمين فسيُضرب کا مال اور دنیا کی عزت چاہتے ہیں اور خدا سے جو رب العالمین ہے نہیں ڈرتے۔ پس عنقریب ان پر